BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈور پھرنے سے چار سالہ بچہ ہلاک

پتنگ بازی
لاہور کے باسی پتنگ بازی کے نہایت شوقین ہیں
لاہور میں پتنگ بازی پر عائد پابندی کے اٹھنے کے پندرہ دن کے اندر اس کھیل سے متعلق حادثوں میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین حادثہ اتوار کو ہوا جب ڈور گلے پر پھرنے سے ایک چار سالہ بچہ گلا کٹنے سے ہلاک ہوگیا۔

یہ واقعہ گلبرگ مین بلیوارڈ پر پیش آیا جہاں ایک آدمی اپنی بیوی اور دو کم سن بچوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے چار سالہ شایان کا سر تن سے جدا ہوگیا جبکہ دوسرا بچہ اور ان کے باپ کو ڈور پھرنے سے زخم آئے۔

اس سے قبل چار مارچ کو لاہور کے علاقہ مغلپورہ لاریکس کالونی میں ایک آٹھ سالہ لڑکا شہباز پتنگ پکڑتے ہوئے ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ
دو مارچ کو واپڈا ٹاؤن اور چوہنگ میں دو بچے، حسیب احمد اور حسن کٹی ہوئی پتنگ پکڑتے ہوئے چھت سے گر ہلاک ہوگئے تھے۔

چھبیس فروری کو علامہ اقبال ٹاؤن میں اٹھارہ سالہ ندیم پاشا موٹر سائیکل پر جاتے ہوئےگلے پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے ہلاک ہوا جبکہ چیچہ وطنی میں انس نامی بچہ پتنگ اڑاتے ہوئے چھت سے گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔ تئیس فروری کو کوٹ لکھپت (لاہور) کے علاقہ میں ایک دس سالہ لڑکا حمزہ پتنگ لوٹتے ہوئے دھاتی ڈور کے بجلی کی تاروں کو چھونے سے کرنٹ لگ کر ہلاک ہوگیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اکتوبر میں پتنگ بازی کی وجہ سے ہونی والی ہلاکتوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پتنگ بازی اور پتنگ کے کاروبار پر پابندی لگادی تھی جسے عدالتِ عظمٰی نے اس سال چوبیس فروری سے دس مارچ تک چودہ روز کے لیے اٹھا لیا تھا۔

نائٹ بسنت کا رواج بھی اب زور پکڑ گیا ہے

تاہم چند روز پہلے پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ متنازعہ آمیز خاکوں کے خلاف جلسے جلوسوں کی وجہ سے شہری پتنگ بازی سے صحیح طور پر لطف اندوز نہیں ہوسکے۔ اس پر عدالت عظمی نے پتنگ بازی کے لیے پندرہ مارچ تک اجازت دے دی تھی۔

اب پنجاب حکومت کے ادارہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) پتنگ بازی کا تہوار بسنت جشن بہاراں کے عنوان سے پانچ مارچ کی بجائے بارہ مارچ کو منائے گی۔ اتھارٹی نے جشن کی تیاری میں لاہور کی سڑکوں پر رنگا رنگ بینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ ملکی اور غیر ملکی کاروباری کمپنیوں نے شہر کی اہم چھتیں بسنت منانے کے لیے بک کروا لی ہیں۔

اسی بارے میں
پتنگ ڈور سے تیسری ہلاکت
27 February, 2006 | پاکستان
پتنگ بازی کی مشروط اجازت
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد