BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 08:54 GMT 13:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھ سالہ پتنگ باز کی رہائی کا حکم

پنجاب حکومت سارے صوبہ میں پتنگ بازی کے لیے ایک ہی مدت مقرر کرے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اس نے سال میں دو ہفتہ کے لیے پتنگ بازی کی اجازت کا جو قانون نافذ کیا ہے اس کے تحت دو فروری تک قواعد و ضوابط بنائے اور سارے صوبہ میں پتنگ بازی کے لیے ایک ہی مدت مقرر کرے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس تصدق حسین جیلانی نے آج پتنگ بازی پر پابندی سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی۔ اس سے پہلے پچیس اکتوبر کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بینچ نے چھبیس جنوری تک کے لیے پتنگ بازی پر عبوری پابندی لگادی تھی۔

سپریم کورٹ نے پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملہ کی از خود خود سماعت شروع کی تھی۔

سپریم کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ حکومت پتنگ بازی کی اجازت کے لیے پورے صوبہ کے لیے ایک ہی مدت مقرر کرے اور ایسا نہ ہو کہ دو ہفتے کے لیے ایک جگہ اجازت دی جائے اور کسی اور جگہ پر کوئی اور دو ہفتوں کے لیے اجازت ہو اور یہ سلسلہ چلتا رہے۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ حکومت پتنگ بازی کی ممانعت کے ترمیمی آرڈیننس مجریہ سنہ دو ہزار پانچ کے تحت پتنگ سازوں اور ڈور بنانے والوں اور ان کا کاروبار کرنے والوں کی رجسٹریشن کے لیے قواعد وضوابط بنا کر اس کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ دیگر تین صوبے بھی ان ہدایات پر عمل کریں گے۔

آج عدالت عظمی میں پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے سماعت سے محروم ہونے والے ایک نوجوان فہیم شہزاد کے والد نے عدالت کو بتایا کہ ان کا بیٹا آغا خان ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ عدالت عظمی نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ اس لڑکے کو ایسی ملازمت دی جائے جس میں اسے بولنے کی ضررت نہ ہو اور لکھنے پڑھنے کا کام ہو۔

عدالت عظمی میں چار ایسے زیرحراست بچے بھی پیش کیے گئے جو پتنگ بازی کرتے ہوئے لاہور پولیس نے پکڑے تھے۔ ان میں سے ایک بچہ کی عمر تقریبا چھ سال تھی۔ عدالت عظمی نے ان بچوں کی فوری رہائی کا حکم دیا اور کہا کہ ان کو حراست میں لینے والے پولیس اہلکار کے خلاف کاروائی کی جائے۔

آج سپریم کورٹ کے باہر پتنگ بازی پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ نو دسمبر سنہ دو ہزار پانچ کو سماعت کے موقع پر عدالت عظمی کے باہر ہجوم نے پتنگ بازی کے حق میں نعرہ بازی اور ہنگامہ آرائی کی تھی۔

آج عدالت عظمی نے اپنی جانب سے ایک ماہ کے لیے پتنگ بازی پر لگائی گئی پابندی کے معاملہ پر بات نہیں کی بلکہ عدالت عظمی میں پتنگ بازی کی ممانعت کے قانون پر بات کی گئی۔

عدالت میں موجود وکلاء کا کہنا تھا کہ ترمیمی قانون کے فوری طور پر نافذ ہونے کے بعد اب سپریم کورٹ کی کاروائی کا رخ اپنی لگائی ہوئی سابقہ پابندی کے بجائے یہ قانون ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ پر پتنگ بازی اور اس سے متعلقہ کاروبار پر مکمل پابندی لگائے جانے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ پتنگ بازی کی اجازت ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد