پتنگ بازی کا قانون ادھورا ہے: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ خطرناک پتنگ بازی کی ممانعت کے لیے پنجاب حکومت کا جاری کردہ قانون ادھورا ہے اور پتنگ بازی کی محدود اجازت سے متعلق حکومت نے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے وہ عدالت عظمی کی ہدایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پچیس اکتوبر کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بینچ نے چھبیس جنوری تک کے لیے پتنگ بازی پر عبوری پابندی لگادی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ سپریم کورٹ نے پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملہ کی از خود سماعت شروع کی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے گزشتہ سماعت پر پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ خطرناک پتنگ بازی کی ممانعت کے آرڈیننس کے تحت ضوابط بنا کر عدالت میں پیش کرے۔ تاہم جمعرات کو پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل آفتاب اقبال نے ضوابط عدالت عظمیٰ میں پیش نہیں کیے بلکہ عدالت کے سامنے حکومت کا جاری کردہ ایک تازہ نوٹیفکیشن پیش کیا جس میں پتنگ سازی کے لیے پندرہ فروری سے پندرہ مارچ تک اجازت دی گئی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت عظمی کو بتایا کہ لاہور کی ضلعی حکومت اور پولیس نے شہر سے باہر محض مخصوص مقامات پر پتنگ بازی کی اجازت دینے کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ انتظامیہ کے اجلاس میں تیس مقامات کی نشان دہی کی گئی تھی جہاں پتنگ بازی کی اجازت دی جاسکتی تھی لیکن ضلعی حکومت اور پولیس کا موقف تھا کہ ان مقامات پر جانے والے لوگوں سے ٹریفک کا ہجوم ہوجائے گا اور بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے پوچھا کہ پتنگ بازی کی اجازت کب سے کب تک ہوگی تو انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ ضلعی ناظم صوبائی حکومت کی اجازت سے کریں گے اور وہی تاریخ کا تعین کریں گے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ پورے صوبے میں ہر جگہ ایک ہی مدت کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دی جائے۔ تاہم حکومت نے اب تک ایسا نہیں کیا۔ ڈور بنانے والی کمپنیوں کے وکیل ملک قیوم نے عدالت عظمی سے کہا کہ آئین کے تحت کاروبار کرنا ہر شخص کا حق ہے اور پتنگ بازی پر پابندی سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کا پتنگ بازی کی ممانعت کا آرڈیننس آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ یوم کے لیے اس کی اجازت دینے کا قانون جلد بازی میں بنایا گیا ہے اور اس میں نہیں بتایا گیا کہ اس کے تحت رولز کون بنائے گا۔ ملک قیوم نے کہا کہ کوئی کام یا تو قانونی ہوتا ہے یا غیر قانونی اس لیے سارا سال پتنگ بازی کو غیر قانونی قرار دے کر پندرہ یوم کے لیے قانونی قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے یہ قانون صدر جنرل پرویز مشرف کے پتنگ بازی کی حمایت میں بیان کی روشنی میں بنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتظامی نظام ضلعی حکومت اور پولیس کے پاس ہے اور پولیس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اس لیے حکومت یہ بتائے کہ اس نے پتنگ بازی کے خطروں سے بچنے کے لیے کون سے اقدامات کیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ لوگوں کو بے روزگار کیا جائے اور ایک توازن رکھنا چاہتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت بتائے کہ پتنگ بازی کی اجازت کب دی جائے گی اور کیا حکومت روزانہ عدالت عظمی کو پتنگ بازی پر رپورٹ دینے کے لیے تیار ہے۔ عدالت نے کہا کہ خطرناک پتنگ بازی کی ممانعت کا قانون ناکافی ہے اور عدالت عظمی اس پر غور کرے گی۔ اس معاملہ کی سماعت اگلے ہفتہ ہوگی۔ عدالت عظمی کا پانچ رکنی بینچ جاوید اقبال، فقیر محمد کھوکھر، جاوید بٹر اور اعجاز احمد پر مشتمل تھا۔ چیف جسٹس چودھری افتخار جنہوں نے اس معاملہ کا از خود نوٹس لیا تھا جمعرات کو بینچ میں شامل نہیں تھے۔ | اسی بارے میں محرم کے احترام میں کالی پتنگیں21 February, 2005 | پاکستان سپریم کورٹ: پتنگ بازی پر پابندی25 October, 2005 | پاکستان پتنگ بازی: سپریم کورٹ سے پانچ رہا08 December, 2005 | پاکستان چھ سالہ پتنگ باز کی رہائی کا حکم26 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||