BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 March, 2006, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟

پتنگ بازی
اس سال پتنگ بازی سے نو ہلاکتیں ہو چکی ہیں
جوں جوں بارہ مارچ کو پتنگ بازی کا تہوار بسنت منانے کا دن قریب آرہا ہے لاہور اور گرد و نواح میں پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے خلاف احتجاج میں شدت آرہی ہے۔

گزشتہ بیس روز میں لاہور اور گوجرانوالہ میں پتنگ بازی کی وجہ سے مرنے والے لوگوں کی تعداد نو ہوگئی ہے اور پندرہ سے زیادہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں بڑی تعداد کم سن بچوں کی ہے۔

حزب مخالف نے پنجاب اسمبلی میں پتنگ بازی سے ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے اور حکومت سے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے پتنگ بازی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور جمعیت علمائے پاکستان نے ہفتہ کو اس معاملہ پر ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امکان ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پتنگ بازی ایک سیاسی مسئلہ بن جائے گی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اعلان کیا ہے کہ اب اگر پتنگ کی ڈور پھرنے سے کوئی شخص ہلاک ہوا تو حکومت پتنگ بازی پر ہمیشہ کے لیئے پابندی لگادے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ خطرناک ڈور استعمال کرنے والے کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمے درج کیئے جائیں گے۔

پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے یا ڈور بیک وقت بجلی کی تاروں اور کسی شخص کو چھونے سے جو اموات ہوتی ہیں ان میں عام طور پر ملزم کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ یہ جاننا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ کٹی ہوئی پتنگ کس نے اڑائی تھی۔ خاص طور سے لاہور جیسے شہر میں جہاں ایک وقت میں لاکھوں نہیں تو کم از کم ہزاروں پتنگیں آسمان میں اڑتی رہتی ہیں۔

لاہور پولیس کے مطابق اس نے اب تک شہر سے دو سو سے زیادہ لوگوں کو ممنوعہ خطرناک ڈور استعمال کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے کسی شخص کو بھی کسی ہلاکت کے الزام میں حراست میں نہیں لیا گیا۔

کہیں خوشی کہیں غم
 پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کےلواحقین کو حکومت زر تلافی ادا کرے گی
راجہ بشارت، وزیر قانون پنجاب

گزشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا خود سے نوٹس لیتے ہوئے اس سال پچیس فروری تک اس کھیل پر اور اس سے متعلق کاروبار پر پابندی لگائے رکھی تھی۔

اس فیصلہ کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کا پتنگ بازی کے حق میں بیان آیا اور پنجاب حکومت نے خطرناک پتنگ بازی کے امتناع کا ایک قانون بھی نافذ کردیا۔اس قانون کے تحت سال میں ایک مہینہ کے لیئے پتنگ بازی کی اجازت کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

البتہ سپریم کورٹ نے اس قانون کو ناکافی قرار دیتے ہوئے صرف چودہ روز کے لیے پہلے پچیس فروری سے دس مارچ تک پتنگ بازی کی اجازت دی لیکن بعد میں پنجاب حکومت کی درخواست پر پندرہ مارچ تک اس میں توسیع کردی۔

پہلے تو سپریم کورٹ پنجاب حکومت سے کہتی رہی کہ وہ اپنے نافذ کردہ قانون کے تحت پتنگ بازی سے متعلق قواعد بنا کر عدالت میں پیش کرے۔ صوبائی حکومت نے عدالت عظمیٰ کی ہدایات کو نظر انداز کیا تو ججوں نے پتنگ بازی کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ خطرناک کیمیکل یا نائلون کی بنی ہوئی ڈور استعمال نہیں کی جاسکے گی۔

جب پتنگ بازی پر شرائط عائد کی گئیں تھیں تو اس وقت بھی کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس پر عمل کرانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر پتنگ اڑاتے ہیں جنہیں چیک کرنا پولیس کے بس میں نہیں۔

کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ پندرہ بیس ہزار پولیس کے جوان لاہور جیسے ستر اسی لاکھ آبادی کے شہر میں کس کس کے مکان پر جاکر معائنہ کرسکتے ہیں کہ کس قسم کی ڈور استعمال کی جارہی ہے۔ دکاندار ایسی ڈور خفیہ طریقے سے بیچتے ہیں۔

ایسوسی ایشن کا مطالبہ یہ تھا کہ شہر سے باہر مخصوص کھلے میدانوں میں سارا سال پتنگ بازی کی اجازت دی جائے جہاں کٹنے والی پتنگیں آبادی سے دور گریں گی اور لوگوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ تاہم حکومت نے اس بات کی اس بنیاد پر مخالفت کی کہ ان مخصوص جگہوں پر جانے کے لیے لوگوں کے ہجوم ٹریفک کے مسائل پیدا کردیں گے۔

پتنگ بازی سے انسانی جان کو کیسے نقصان پہنچتا ہے اس بارے میں مختلف آرا ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کٹی ہوئی پتنگ کے ساتھ لگی ہوئی شیشہ کے مانجھے سے لگی ہوئی ڈور اس لیئے خطرناک ہوجاتی ہے کہ پتنگ میں ہوا بھرنے کے باعث اس کا وزن اور طاقت بڑھ جاتی ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عام ڈور خطرناک نہیں ہوتی بلکہ مسئلہ دھاتی تار کا ہے جس کا چند گز کا ٹکڑا پتنگ کی تناوں کے ساتھ لگا کر اسے ڈور سے منسلک کردیا جاتا ہے۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دھاتی تار سے کٹی ہوئی پتنگ کو اپنی پتنگ سے چمٹانا آسان ہوجاتا ہے۔

دھاتی تار والی پتنگ اگر ٹوٹ جائے اور کسی کے گلے پر لگ جائے تو زخمی کردیتی ہے۔ یہ پتنگ اگر بجلی کی تاروں پر گر جائے تو شارٹ سرکٹ بننے سے بجلی بند ہوجاتی ہے۔ لاہور میں بار بار بجلی بند ہونے کا باعث پتنگوں کی دھاتی تار بتائی جاتی ہے۔

پتنگ بازی
سپریم کورٹ نے پتنگ بازی پر پابندی لگا دی تھی

تاہم لاہور میں روایتی پتنگ بازوں کا یہ کہناہے کہ مسئلہ اب دھاتی تار تک محدود نہیں رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ جسے عام ڈور سمجھا جاتا ہے وہ بھی عام نہیں رہی اور اس میں چند برسوں میں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ نقصان کا باعث ہیں۔

لاہور میں بسنت کا اہتمام کرنے کے لیے مشہور شہری یوسف صلاح الدین کا موقف ہے کہ پہلے جو ڈور بنتی تھی اس میں صرف کاٹن کا دھاگہ استعمال ہوتا تھا جو آسانی سے ٹوٹ جاتا تھا لیکن اب لوگوں نے کاٹن کے ساتھ نائلون اور پولی ایسٹر ملے ہوئے دھاگہ سے ڈور بنانا شروع کردی جو آسانی سے نہیں ٹوٹتی اور اس سے گلا کٹ سکتا ہے۔ یہ نئی ڈور اس لیے ایجاد کی گئی تاکہ پتنگ بازوں کی پتنگیں پیچوں یا مقابلوں میں آسانی سے نہ کٹیں۔

یوسف صلاح الدین کا کہنا ہے کہ پہلے ڈور بنانے کے لیئے دھاگے کی پالش میں شیشے کا پاؤڈر اور مائع (نشاستہ) استعمال ہوتا تھا لیکن اب کچھ عرصہ سے ڈور بنانےوالے ایلفی اور دوسرے کیمیکل پالش میں استعمال کررہے ہیں تاکہ اس کی دھار تیز ہوجائے اور پتنگ باز دوسری پتنگ کاٹ سکیں۔ ایسی پتنگ جب خود کٹتی ہے تو اس کی ڈور جان لیوا ہوسکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پتنگ بازی عام لوگوں کو ایک سستی تفریح کا ذریعے رہی ہے۔ جو لوگ خود پتنگ نہیں خرید سکتے وہ پتنگیں لوٹ کر اڑا لیتے ہیں۔ پتنگ لوٹنا بذات خود ایک کھیل ہے۔ اس پر مکمل پابندی سے عام اور کم آمدن والے لوگوں پر زیادہ زد پڑتی ہے جن کے لیئے کھیل اور تفریح کے مواقع کم ہیں۔

ایک نقط نظر یہ ہے کہ پتنگ بازی اور اس کے کاروبار پر ایسی پابندیاں لگائی جائیں جن سے یہ کھیل نقصان دہ اور جان لیوا نہ رہے اور جن پابندیوں پر حکومتی ادارے عمل بھی کرواسکیں۔

پتنگ بازوں کا کہنا ہے کہ ایک خاص سائز سے بڑی پتنگ بنانے، بیچنے اور اڑانے پر پابندی لگائی جاسکتی ہے کیونکہ بڑی پتنگ کا بوجھ اور طاقت زیادہ ہوتی ہے۔اگر بڑی پتنگ کٹ جائے تو اس کے ساتھ لگی ہوئی ڈور زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

دوسری تجویز یہ ہے کہ حکومت کاٹن کے دھاگہ کے سوا پولی ایسٹر اور نائلون ملا کر بنائے جانے والے دھاگے سے ڈور بنانے پرپابندی عائد کرے۔ ڈور کی پالش میں شیشے کے سفوف اور نشاستہ کے سوا کوئی کیمیکل ملانے پر پابندی لگائی جائے۔ مانجھے میں شیشے کے سفوف کا تناسب بھی مقرر کیا جائےکیونکہ شیشہ لگائے بغیر ڈور تیار نہیں ہوتی اور زیادہ شیشہ ملانے سے خطرناک ہوجاتی ہے۔

پتنگ بازوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے اور پتنگ بیچنے والوں کی رجسٹریشن کرے تو اسے قانون اور شرائط پر عمل کرانا آسان ہوسکے گا۔

جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں حزب مخالف کے ارکان نے ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان میں کہا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کےلواحقین کو حکومت زر تلافی ادا کرے گی۔

اسی بارے میں
بسنت کے حادثات میں 19 ہلاک
07 February, 2005 | پاکستان
بسنت کے حادثات میں سولہ ہلاک
06 February, 2005 | پاکستان
بسنت کی بہار 11 جانیں لے چکی
06 February, 2005 | پاکستان
بسنت کے خلاف درخواست خارج
04 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد