بسنت کے حادثات میں 19 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے روایتی تہوار بسنت میں پتنگ بازی کے دوران مختلف حادثات میں متعدد بچوں سمیت انیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں سے تیرہ افراد لاہور میں گزشتہ دو روز کے دوران جب کے باقی پنجاب کے تین شہروں میں بسنت کی تقریب کے باعث پیش آنے والے واقعات میں ہلاک ہوئے۔ لاہور میں اب تک ہلاک ہونے والوں کم از کم آٹھ بچے ہیں۔ مزید تین ہلاکتیں لاہور میں بسنت کے روز اس وقت ہوئیں جب ایک گھر میں آگ لگ جانے سے تین کم سن بہن بھائی ہلاک ہوگئے۔ کینٹ پولیس کے ڈیوٹی افسر کے مطابق جگا مسیح اور اسی کی بیوی اپنے چار بچوں کو گھر میں سوتا چھوڑ کر کسی رشتہ دار کے گھر ملنے کے لیے گئے تھے اور جاتے ہوئے بسنت کے باعث بجلی بار بار کے تعطل کی وجہ سے ایک موم اس کمرے میں جلتی چھوڑ گئے تھے جس میں ان کے بچہ سو رہے تھے۔ موم بتی پر بچوں کے لحاف کا کونا گرا اور کمرے میں آگ لگ گئی۔ بعد میں دروازہ توڑ کر بچوں کو نکالا اور ہپستال پہنچایا گیا لیکن تین بچے دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو سالہ بچی مقدس اور اس کے دو بھائی تین سالہ داؤد اور پانچ سالہ آکاش شامل ہیں۔ان کی ایک بہن بے ہوشی کے عالم میں لاہور کےشالیمار ہسپتال میں داخل ہے ۔ اس سے پہلے بسنت کے حوالے سے صرف لاہور میں چوبیس گھنٹے کے دوران دس افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے نصف بچے ہیں۔ بسنت کا آغاز سنیچر کی رات ہوگیا تھا جو اتوار کی شام غروب آفتاب تک جاری رہی اس دوران پتنگ بازی بھی ہوتی رہی اورسا تھ ساتھ ہلاکتیں بھی جاری رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اس سال ہوائی فائرنگ بہت زیادہ ہوئی اور شہر کے مختلف حصے کلاشنکوف اور دیگر آتشیں اسلحہ کی فائرنگ سے گونجتے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||