بسنت کے حادثات میں سولہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے روائتی تہوار بسنت میں پتنگ بازی کے دوران مختلف حادثات میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ صرف لاہور میں چوبیس گھنٹے کے دوران دس افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے نصف بچے ہیں۔ بسنت کا آغاز سنیچر کی رات ہوگیا تھا جو اتوار کی شام غروب آفتاب تک جاری رہی اس دوران پتنگ بازی بھی ہوتی رہی اورسا تھ ساتھ ہلاکتیں بھی جاری رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اس سال ہوائی فائرنگ بہت زیادہ ہوئی اور شہر کے مختلف حصے کلاشنکوف اور دیگر آتشیں اسلحہ کی فائرنگ سے گونجتے رہے۔ مزنگ می ایک نوجوان نعمان فائرنگ سے ہلاک ہوا اس کے علاوہ لاہور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نسبت روڈ کے مہران شاہد کے سر پر نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگ گئی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ اپنے زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ گوالمنڈی پولیس نے اس کے دو ہمسائیوں کو اس کی ہلاکت کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔
تاہم پولیس کا یہ دعوی غلط ثابت ہوا کہ اس کی حکمت عملی کے باعث شہر میں فائرنگ نہیں ہوگی۔ پولیس کی ٹیمیں شہر میں مختلف مقامات پر گشت کرتی رہیں اور دھاتی تار سے پتنگ اڑانے اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتی رہیں۔ پولیس نے مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج کیے ہیں۔ متعدد مقدمات انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں اور گرفتار ہونے والوں کی تعداد بھی درجنوں میں بتائی جا رہی ہے۔ لاہور میں چوبیس گھنٹے کے دوران ہونے والے واقعات میں تین افراد دھاتی تار سے اڑنے والی پتنگیں بجلی کی تاروں میں گرنے اور ان میں الجھ جانے سے ہلاک ہوئے۔ ان افراد میں بادامی باغ کے خالد اور محود احمد اور اسلام پورہ کا محمد عارف شامل ہیں۔ میوہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ محود کی لاش ہسپتال پہنچانے والے راہ گیروں نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر بادامی باغ کے علاقے سے گزر رہا تھا کہ بجلی کی تاروں سے لٹکتی کٹی پتنگ کی دھاتی تار میں الجھ گیا اور کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا۔ دو لڑکے چھت سے گر کر جاں بحق ہوئے جن میں مین مارکیٹ گلبرگ کا بلال اور دھرم پورہ کا دس سالہ بچہ اورنگزیب شامل ہیں۔ دو افراد پتنگ لوٹتے ہوۓ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوئے۔ ان میں لوئر مال میں غبارے بیچنے والا نامعلوم محنت کش اورہنجروال کا آٹھ سالہ محمد امجدشامل ہیں۔ ایک اور واقعہ لاہور کے علاقے پیکو روڈ لیاقت آباد میں پیش آیا جہاں چار سالہ بچی کشف گلے پر ڈور پھر جانے سے ہلاک ہوگئی۔
پتنگ بازی کی وجہ سے لاہور میں بجلی کا سلسلہ بھی سارا دن منقطع ہوتا رہا۔ کٹی پتنگ خاص طور پر دھاتی تار والی پتنگ بجلی کی تاروں پر گرنے سے شارٹ سرکٹ کا باعث بنتی ہے واپڈا ذرائع کا کہنا ہے کہ دو روز کے دوران شہر کے مخفتلف علاقوں میں کم از کم چار ہزار بار بجلی منقطع ہوئی ہے۔ پنجاب کے چند بعض شہروں میں جمعے کو بسنت منا لی گئی تھی اخباری اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں مختلف واقعات میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بسنت پنجاب کا ایک ایسا تہوار جو صدیوں پرانا ہے لیکن اس میں جدت کے ساتھ کچھ ایسے عناصر شامل ہو گئے ہیں جس نے اس تہوار کو خونی بنا دیا ہے اور ہر سال درجنوں افراد پتنگ بازی کے اس کھیل میں ہلاک ہوجاتےہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||