BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 February, 2005, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بسنت: موسیقی، دعوتیں، ہلاکتیں
بسنت پر ڈھول باجے اور خواتین خوشیاں مناتی ہوئیں
بسنت پر ڈھول باجے اور خواتین خوشیاں مناتی ہوئیں
موسم بہار کی آمد پر پانچ فروری کو لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنت کا تہوار منایا جارہا ہے۔ جہاں پنجاب میں یہ سرکاری سطح پر بھی منایا جاتا ہے، وہیں سرحد کے معاشرے میں بسنت منانے کا رواج نہیں ہے۔ اس موقع پر چاروں طرف آسمان پتنگوں سے بھر جاتا ہے، رات کو سفید پتنگیں اور دن میں رنگ برنگی پتنگیں آسمان کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ محرم کی آمد کے سبب اس سال بسنت کا یہ تہوار جو پہلے فروری کےدوسرے یا تیسرے ہفتے میں منایا جاتا تھا اس سال پہلے ہفتے ہی میں منایا جارہا ہے۔

بسنت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر بہت لوگ ہلاک یا زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ہلاکتیں عام طور پتنگ کٹ جانے کے بعد پیش آنے والے حالات کے باعث پیش آتی ہیں۔ پتنگ جب تک اڑتی ہے تب تک وہ زندگی کی علامت ہے اور جب اس کی ڈور کٹ جاتی ہے تو کبھی کبھی وہ موت بن کرگرتی ہے۔

کٹی پتنگ کے ساتھ اگر دھاتی تار ہو تو خون خشک کرنےاورجھلسا دینے والا کرنٹ جان لے لیتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی موت کا کھیل بن گئی ہے۔ دھاتی تار والی پتنت پر پابندی عائد ہے۔ صوبہ سرحد میں بسنت منانے کا رجحان نہیں ہے۔

کیا اسلام میں تفریح پر کوئی پابندی ہے؟ پشاور یونیورسٹی کے اسلامک سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے: ’اسلام تفریع پر کوئی پابندی نہیں لگاتا بس صرف اس کے لئے چند اصول اس نے وضع کیے ہیں، اگر ان کے اندر رہ کر تہوار منائے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسلام تو تیر اندازی جیسے شوق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘

کیا آپ اس سال بسنت کی خوشیوں میں شریک ہیں؟ بسنت کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے، ہمیں لکھئے۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


فرزانہ حسین منصور، حیدرآباد:
دورِ مغلیہ میں تصوف کے پیروکار بسنت کے موقع پر پیلے کپڑے پہنتے تھے، پیلے پھولوں سے سزاتے تھے، اور رات دن قوالیاں گاتے اور سنتے تھے۔ بسنت کی تاریخ میں صوفیوں کی شراکت رہی ہے۔ آج کل پاپولر مذہبی رہنما ماڈرن پاکستان میں بسنت کی ہندو تہوار کی حیثیت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ رکنا چاہئے تھا۔ تاریخی اعتبار سے لاہور وہ شہر ہے جہاں پتنگ بازی عام ہونے لگی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب سے امراء کے مشغلہ بن گئی۔۔۔۔۔

ہلال باری، لندن:
پنجاب کی اکثریت اس وقت اسلام سے دور ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے آرمی میں ان لوگوں کی اکثریت کے باوجود ہروہ کام جو ملک کو تباہی کے دہانے پر لائے جارہا ہے وہ پروموٹ کیا جارہا ہے، مجھ کو پاکستانی ہونے پر شرم ہے۔

دو پاکستان، دوسرا غریبوں کا
 کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔ غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔
سارہ خان، پشاور

سارہ خان، پشاور:
ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہزاروں لوگ تنگ دستی اور بےروزگار سے تنگ آکر خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو لوگ روپئے کو پتنگ بناکر ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔ غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔

جاوید، جاپان:
میرے خیال میں اگر مجھے کوئی چیز پسند نہیں تو کوئی بھی اس کو پسند نہ کرے۔ یا تو قدرت کا نظام ہی روزی دینے کا، جو لوگ اپنا بخار بھی کسی کو نہ دیں وہ بسنت والے دن ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں اور اس دن اربوں روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ کتنوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔۔۔۔۔

تاج عالم، ٹورانٹو:
بی بی سی انڈائریکٹلی بسنت کو پروموٹ کررہی ہے، ورنہ اس کو میڈیا میں لانے کا کیا مقصد ہے۔ یہ پبلسٹی کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

صابر شاہ، اسلام آباد:
اگر جناب قبلہ ایاز صاحب اس کو جائز قرار دے رہے ہیں تو وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ وہ سلطان پرویز مشرف غزنوی کا ایاز نہ بنیں۔ یہ حرام کی کمائی سے کھیلا جانے والا امیروں کا کھیل ہے۔ جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیہودہ حرکات و سکنات سے لوگوں کو متوجہ کرنے کی وکشش کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد مشرفِزم کو ہوا دیے کے لئے کیا جارہا ہے۔

محمد مسعود جاوید، ڈیرہ غازی خان:
اسلام میں انٹرٹینمینٹ منا نہیں۔ لیکن انٹرٹینمینٹ تہذیب کے دائرے میں ہونی چاہئے۔

خلیل حمید، اسلام آباد:
اس کو سرکاری سطح پر منانا صحیح نہیں ہے۔ یہ غریب لوگوں کا انٹرٹینمینٹ تھا جسے گیارہ ستمبر کے بعد کے روشن خیالوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہائیجیک کرلیا ہے۔

محمد اکرم، فیصل آباد:
پہلے تو اس کو ہم لوگ جشنِ بہاراں کا نام دیتے تھے لیکن اب ہم نے بسنت کہنا شروع کردیا ہے، یعنی کہ بہار کی آمد بہت ہی فضول رسم سے کرتے ہیں۔۔۔۔

محمد بڑا، لاس اینجلس:
یہ کام کافروں کا ہے مسلمانوں کا نہیں جو لوگ اللہ کے حکم کے آگے کاروں کو فالو کرتے ہیں ان کو اس کی سزا مرنے کے بعد بھگتنی پڑے گی اور جب کوئی اس گندے کام کو کرتے ہوئے مرا تو قیامت والے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا۔۔۔۔

فیصل تقی، کراچی:
اسلام کسی بھی قسم کی تفریح سے نہیں روکتا۔ بشرطیکہ یہ تفریح کسی کی جان، مال یا عزت کو داؤ پر لگاکر نا حاصل کی جائے۔ اسی طرح بسنت کے لئے بھی اسلام میں کوئی منادی نہیں ہے لیکن اس کے لئے ضابطۂ اخلافق ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اول تو اس کھیل کو آبادی سے باہر منتقل کردیا جائے تاکہ دھاتی ڈور سے شہ رگ کٹنے کے واقعات نا ہوں اور نہ ہی کرنٹ لگنے کے واقعات ہوں۔

یاسر اقبال بخاری، پشاور:
جناب والا کیا بسنت منانا بہت ضروری ہے؟ کیا اس کے بغیر چارہ نہیں؟ کروڑوں روپئے اس پر فضول خرچ کیے جائیں اورکتنی قیمتی جانیں اس ایک دن کے تہوار سے ضائع ہوجاتی ہیں۔

علی نقوی، سڈنی:
پنجاب میں شباب اور شراب پر جتنا لٹایا جاتا ہےاتنا کسی کے لئے وقف کردیں تو بہت ہی اچھا ہو۔

اب یہ فیسٹیول بن گئی ہے۔۔۔۔
 مجھے یاد ہے آج سے بیس پچیس سال پہلے صرف دین کو بسنت ہوا کرتی تھی۔ مگر اب یہ حکومت کی سرپرستی ملنے کی وجہ سے یہ فیسٹیول بن گئی ہے۔
مقدس کاظمی، لاہور

مقدس کاظمی، لاہور:
دنیا میں ہر پروفیشن کے لئے کوئی نہ کوئی خاصیت یا کوئی نہ کوئی کرائٹیریا ہوتا ہے۔ مگر مولویں کے فتوے کا کوئی معیار نہیں ہے۔ بس جو چیز اپنے بس میں نہ دیکھی اسے حرام قرار دے دیا۔ مجھے یاد ہے آج سے بیس پچیس سال پہلے صرف دین کو بسنت ہوا کرتی تھی۔ مگر اب یہ حکومت کی سرپرستی ملنے کی وجہ سے یہ فیسٹیول بن گئی ہے۔ نو ڈاؤٹ لاہور کو کافی بزنس ملتا ہے۔ اندرون شہر تنگ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا واحد ذریعہ پتنگ بازی ہے تھا جب اب گلیمرائز ہوچکا ہے۔ اگر بسنت حدود و قیود میں ہو تو شاید اسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔

مسکین خان، لاہور:
پاکستان میں ایک طرف تو بتیس فیصد عوام خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف دولت کا از حد اصراف۔ حیرت ہے کہ میڈیا، مولوی اور ماڈریٹس سب ہی غربت۔مخالف مہم سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

ارسلان قریشی، جدہ:
مجھے تو یہ دیکھ کر شرم آتی ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں لوگوں کے پاس کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی نہیں ہوتی اور ہمارے ہاں بسنت کو ایک نیشنل فیسٹیول کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بسنت منانے سے بہتر ہے کہ آپ جو پیسہ بسنت پر خرچ کرتے ہیں وہ کسی غریب کو دی دیں اس سے آپ کو زیادہ سکون ملے گا۔

برحان احمد، کراچی:
جب قومیں بےحیا ہوجاتی ہیں تو اللہ کا عذاب آنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ بسنت کا تہوار ایسے ہی نفس کے غلاموں کا ایک طریقہ ہے جو اس کو اپنی غلط خواہشات کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔

عدیل رضوی، آسٹریا:
ہمارے مذہب میں فضول خرچی جائز نہیں۔ لاکھوں روپئے پتنگ بازی پر اڑا دیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے غریب ملک میں لاکھوں لوگ بھوکے سوتے ہیں۔ پہننے کے ڈھنگ کے کپڑے نہیں۔ اس طرح کی عیاشیوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور خون کے آنسو روتے ہیں۔ یہی پیسہ اگر انہیں لوگوں پر خرچ کیا جائے تو دنیا اور آخرت سنور جائے۔

شاہ شفیق پرویز، اٹک:
غریب کے بچوں کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں کھانا تلاش کرتے ہوئے پاکستان میں بسنت منانا، وہ شرم کی بات ہے۔

احمد:
شرم آنی چاہئے، اس وقت جب کہ انسانیت تکلیف میں مبتلا ہے ہم ناچ گانا کررہے ہیں۔ اب ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نظریۂ پاکستان (اگر کوئی تھا) تو دم توڑ چکا ہے۔ فوجی مافیا، جاگیردار، وہ لوگ جن کے آباء و اجداد انگریز کے نمک۔۔۔ تھے وہ پاکستان کو لوٹ کا مال سمجھے ہوئے ہیں۔

طاہر اقبال سیال، ملتان:
یہ بالکل غیراسلامی ہے اور انکل مشرف اسے امریکہ کے کہنے پر پروموٹ کررہے ہیں۔ اس کا واحد مقصد روشن خیالی کے نام پر پاکستان میں سیکولرزم کو پروموٹ کرنا ہے۔

فیصل چانڈیو، فیصل آباد:
بسنت اور ویلانٹائن جیسے اخلاق سے گرے ہوئے دنوں سے واضح ہوگیا ہے کہ عید اور بقرعید سے بڑھ کر یہ دن ہمارے لئے مذہبی ہیں۔ اور اب ہم ان کو انٹرنینٹمینٹ کا نام دیں گے۔

جواد بلوچ، تربت:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ہی فضول رسم ہے۔

سبھی تہواروں کا ذکر قرآن میں نہیں مگر ہم۔۔۔
 کچھ تہوار یا رسمیں ہوا نہیں کرتیں پر اچھی لگنے کی بنیاد پر بن جایا کرتی ہیں۔ اور اسی طرح ہمیشہ سے تہوار بنتے آئے ہیں۔ ۔۔۔ لاتعداد ایسی تہواریں ہیں جن کو ہم منایا کرتے ہیں اور اس کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں۔
محمد حمید الحق، کراچی

محمد حمید الحق، کراچی:
اس مصروف دور میں اگر تھوڑا وقت انٹرنینمینٹ کے لحاظ سے بسنت کو دے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ پر تمام لوگ اپنے کنبے، دوست و احباب، رشتہ دار جو کہ ایک جگہ جب جمع ہوکر اس کھیل سے لطف اندوز ہورہے ہوں تو احتیاط برتی جائے۔ اپنی خوشی میں کی گئی فائرنگ کسی کے گھر میں قیامت نہ برپا کردے۔ کھیلوں میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں پر ایسی ہو کہ دوسرے دن سب بھول کر ایک دوسرے سے گلے لگتے دیکھیں۔ تو اس انٹرٹینمینٹ میں کوئی برائی نہیں۔ کچھ تہوار یا رسمیں ہوا نہیں کرتیں پر اچھی لگنے کی بنیاد پر بن جایا کرتی ہیں۔ اور اسی طرح ہمیشہ سے تہوار بنتے آئے ہیں۔ ۔۔۔ لاتعداد ایسی تہواریں ہیں جن کو ہم منایا کرتے ہیں اور اس کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں۔

زیاد احمد، ناظم آباد:
بسنت پنجاب والوں کی عیاشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عدیل رضوی، آسٹریا:
میرے خیال سے بسنت کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اس میں فضول خرچی بہت ہوتی ہے اور جانیں بھی بہت جاتی ہیں اور جن لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ پتنگیں وغیرہ خرید سکیں وہ ترستے رہتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے مذہب میں یہ چیز نہیں ہے۔

خالد بھٹی، ملتان:
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ پتنگ بازی کرنے والا اپنی تفریح کی خاطر دوسروں کے نقصان کا باعث بنتا ہے، یہ غیرانسانی ہے، اس لئے غیراسلامی بھی ہے۔ تفریح کا مقصد اگر خوشی حاصل کرنا ہے تو پھر دوسروں کے کام آکر اس بسنتی بےہودگی سے زیادہ خوشی حاصل کی جاسکتی ہے۔

سید سبط حسن نقوی، لاہور:
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر بسنت کو مل بیٹھنے کا بہانہ بنایا جائے تو میرا خیال ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن اگر اس میں لاکھوں روپئے ہوا میں اڑتا جائے تو اسلام اس کی قطعا اجازت نہیں دیتا۔

عرفان چودھری، سرگودھا:
بسنت کو وہ لوگ پروموٹ کررہے ہیں جن کے پاس عقل سے زیادہ پیسے ہیں۔ اگر عقل کریں تو بسنت کے دوران ضائع ہونے والی جانیں بچ سکتی ہیں۔

تجمل عمران، سویڈن:
صحیح اور غلط کی تمیز کس کو ہے؟ ہم ایک افریقن گائے کا ہجوم ہیں۔ جس طرف طاقت ور گائے چلتی ہے سب گائے اس کے پیچھے!! پاکستان سے معذرت کے ساتھ۔

رانا عادل خان، فیصل آباد:
حدود میں رہ کر جو بھی کرو ٹھیک ہے، کچھ تفریح کچھ مستی سب ملک کے کریں۔

عرفان احمد، مانٹریال:
ایسے تہواروں سے جتنا کوشش کرسکیں، گریز کرنا چاہئے۔ ان ہی پوائزن سے اگر کسی غریب کی مدد کی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

عمیر شاہ، نیویارک:
جو لوگ اس تہوار کے خلاف ہیں وہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو خوش نہیں دیکھنا چاہتے، ان کے لئے خوشی صرف جنت میں ملے گی جب دنیا میں کوئی مومن نہیں رہ جائے گا اور دنیا غم اور تباہی کا منظر ہوگی۔ انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں یقین نہیں ہے۔ ملیشیا کے ایک وزیر سے ایک پاکستانی نے سوال کیا کہ آپ کے ملک نے کس طرح اقتصادی ترقی حاصل کی تو وزیر کا جواب تھا کہ آپ یہ سوال کیوں کرر ہے ہیں پاکستانی لوگ تو صرف مرنے کے بعد کی زندگی چاہتے ہیں۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
یہ سب ہندوانہ رسم ہے، ان تہواروں سے صرف نقصان ہی ہوسکتا ہے۔

اظفر خان، ٹورانٹو:
امیر لوگوں نے ہم غریبوں کا اڑایا ہے مزاق۔ یہ روشن خیال اعتدال پسندی ہے کہ پیلے کپڑے پہن کر پتنگ اڑائیں۔ پیلے کیوں؟ غریبوں کو بھی پتنگ اڑانا چاہئے کیوں کہ ہوا میں پتنگ غریب اور امری کی ایک سی اڑتی ہے۔

ایم اے بنیان، اسلام آباد:
یہ سب کچھ سنت اور قرآن کے خلاف ہے۔ یہ وقت اور پیسے کا بھی نقصان ہے۔ معصوم لوگوں کے لئے اس سے جان کا نقصان ہے، جو اس تہوار میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔ حکومت کو اس پر پابندی عائد کرنی چاہئے تاکہ عام لوگوں کی زندگی بچائی جاسکے اور یہ پیسہ غریب لوگوں کی بہتری میں صرف کیا جائے۔

عثمان شاہ، آسٹریا:
میں تو صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اگر لاہور کے لوگ جتنا پیسا لگاتے ہیں اتنا پیسہ وہ اللہ کے راستے میں لگائیں تو یہ بسنت سے کروڑوں درجے بہتر ہے۔

اسلام جبر کا مذہب نہیں۔۔۔۔
 اسلام جبر کا مذہب نہیں ہے اور نہ ہی تفریح کے مواقع پر کوئی پابندی ہے۔ اسلام نے ہر بات کے لئے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں جن میں اہم بات میانہ روی اور حدود کی حد میں رہ کر کوئی بھی کام کیا جائے وہ ویسے بھی ٹھیک لگتا ہے۔
شاہدہ اکرم، ابوظہبی

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
ڈاکٹر ایاز کا کہنا بالکل ٹھیک ہے۔ اسلام جبر کا مذہب نہیں ہے اور نہ ہی تفریح کے مواقع پر کوئی پابندی ہے۔ اسلام نے ہر بات کے لئے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں جن میں اہم بات میانہ روی اور حدود کی حد میں رہ کر کوئی بھی کام کیا جائے وہ ویسے بھی ٹھیک لگتا ہے۔ ہر رسم یا کسی بھی شعبۂ زندگی میں آپ اگر آپ حد سے تجاوز کریں گے تو وہ بات تکلیف کا باعث ہوگی۔

سید خالد حسین، کویت:
جو کام نبی کریم (ص) نے اور ان کے صحابہ نے نہیں کیا وہ اگر ہم رسم و رواج سمجھ کر کررہے ہیں تو کفر کررہے ہیں۔

مہدی سرگنہ، ملتان:
آج کل کے اس گھٹن زدہ ماحول میں لوگوں کے لئے کچھ تو مواقع ہونے چاہئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو اس سے تکلیف ہو۔

سید شاہ، شیکاگو:
مجھے وقت پاس کرنے کے لئے پتنگیں اڑانا پسند ہے لیکن اس کو تہوار سے جوڑنا اور ان دنوں سرکاری سطح پر غیراسلامی کام کرنا اچھا فعل نہیں ہے۔ اسے حکومت اور غیرملکی اثرات سے پاک رکھا جائے تاکہ پرانے دنوں کی طرح پتنگ بازی صرف ایک مشغلہ رہے۔

محمد آصف اچک زئی، چمن:
افسوس ہوتا ہے کہ ایک شوق کو تہوار کا نام دیا گیا ہے اور تہوار بھی وہ جو صرف امیر مناسکیں۔ چلوں اس بہانے غیروں کو کچھ سکون تو ملتا ہوگا۔ کاش کہ ہم جان سکتے کہ اس قسم کے تہوار سے اچھا ہوتا کسی غریب کی مدد ہی کردیتے۔

اعجاز احمد، صادق آباد:
میرے خیال میں بسنت نہ ہی کوئی تہوار ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی تہوار یا کسی ملک کی ثقافت کا حصہ۔ یہ تہوار صرف لاہوریوں کا ہے کیوں کہ موسم بہار تو پورے ملک میں آتا ہے نہ کہ صرف لاہور میں۔ ہم نے یوں ہی بہار کا نام بدنام کیا ہوا ہے۔ میرے خیال میں بسنت کا بہار سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف اور صرف لاہوریوں کا تہوار ہے جسے لاہور کے آس پاس والے شہروں نے بعد میں اپنایا ہے۔

محمد جاوید، امریکہ:
اسلام موسیقی اور ڈانس پروموٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

کیا روشن خیالی یہی ہے؟
 روشن خیالی کے نام پر میلین روپئے ہوا میں اڑا دیے جائیں گے۔ اگر یہی پیسہ سونامی سےتباہ حال لوگوں کو بھیج دیا جائے یا کسی اور مثبت کام میں لگ جائے تو یہ روشن خیالی اور عقل کی بات ہوگی۔
تنویر کاظمی، واہ کینٹ

تنویر کاظمی، واہ کینٹ:
اسلام تفریح پر پابندی نہیں لگاتا لیکن اس کو کچھ دائروں میں قید کرلیتا ہے۔ بسنت کے نام پر جو طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے اس کے لئے اسلام میں کوئی مثال نہیں۔ خود سوچیں یہ اس ملک کے لوگ پیسہ اجاڑ رہے ہیں جہاں ہر سال سینکڑوں لوگ فاقوں سے تنگ آکر خودکشی کرلیتے ہیں۔ روشن خیالی کے نام پر میلین روپئے ہوا میں اڑا دیے جائیں گے۔ اگر یہی پیسہ سونامی سےتباہ حال لوگوں کو بھیج دیا جائے یا کسی اور مثبت کام میں لگ جائے تو یہ روشن خیالی اور عقل کی بات ہوگی۔ اصل میں سچی بات یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حواری یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے لوگوں کو شراب اور شباب کی لذت میں ڈال دو، یہ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔۔۔۔

ایم علی، ٹورانٹو:
بسنت ایک غیراسلامی فعل ہے۔ اس پر پابندی لگنی چاہئے۔

عثمان محمود، آسٹریا:
میرے خیال سے بسنت پر لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میں نے جب بھی سنا ہے تو کوئی نہ کوئی ہلاک یا زخمی ہوتا ہے اور لوگ خوب پیسے ضائع کرتے ہیں۔ بسنت پر لوگ شرطیں لگاتے ہیں اور اس میں فائدہ کوئی نہیں ہوتا جو ہار جاتا ہے اسے نقصان مگر جو جیت جاتا ہے اسے بھی نقصان کیوں کہ شرط ایک جوا ہے اور جوا اسلام میں منع ہے۔ بسنت ایک بہت بڑا نقصان ہے اور کچھ نہیں۔ ہاں اگر بسنت کا کوئی فائدہ ہے تو بتائیں؟

عنایت خان، دوبئی:
بسنت کا تہوار ایک ہندو تہورا ہے۔ اس کو پاکستان کی موجودہ حکومت نے پروموٹ کیا ہے۔ پاکستانی جرنلوں نے اب پاکستانی ثفقت کے نام پر روشن خیالی کو پروموٹ جو کرنا ہے۔

بسنتوسنت رِتو سے بسنت
بسنت بہار کی آمد کا جشن بھی تو ہے
ہم سا ہو تو۔۔۔
لاہور کی بسنت میں ایسا کیا ہے
بسنتبھارتی فنکارلاہور میں
بھارتی فلمی ستارے بسنت منانے پاکستان میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد