بسنت کی بہار 11 جانیں لے چکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بسنت نائٹ کا رنگ چوکھا ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہلاکتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ ابتدائی چند گھنٹوں کے دوران دو بچوں سمیت پانچ افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ حادثات کاشکار ہونے والے افراد سے بھر گئے ہیں۔ میوہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہسپتال میں محمود نامی شخص کی لاش لائی گئی جو کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔ ہسپتال کے مطابق اسے ہسپتال پہنچانے والے راہ گیروں نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر بادامی باغ کے علاقے سے گزر رہا تھا کہ بجلی کی تاروں سے لٹکتی کٹی پتنگ کی دھاتی تار میں الجھ گیا اور کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا۔ دھرم پورہ میں دس سالہ بچہ اورنگزیب پتنگ لوٹتے ہوئے چھت سے گر کر ہلاک ہوا۔ لوئر مال میں غبارے بیچنے والا نامعلوم محنت کش ایک کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگتا ہوا تیز رفتار گاڑی کی زد میں آگیا۔ ہنجروال میں آٹھ سالہ محمد امجد اپنے نانا کے ہمراہ چارہ خریدنے جا رہا تھا ایک کٹی پتنگ دیکھ کر مچل گیا اور نا نا کا ہاتھ چھڑا کر بھاگ نکلا لیکن پتنگ تو ہاتھ نہ آئی وہ خود ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا کر جاں بحق ہوگیا۔ لاہور میں کئی مقامات سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ پولیس کی ٹیمیں شہر میں مختلف مقامات پر گشت کرتی رہیں اور دھاتی تار سے پتنگ اڑانے اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتی رہیں۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بسنت نائٹ پر کوئی بھی ہلاکت فائرنگ کے باعث نہیں ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر میں فائرنگ کے واقعات پر کنٹرول کیا گیا ہے۔ بسنت کا خونی تہوار ابھی جاری ہے اور اتوار کی شام تک جاری رہے گا اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر سال کی طرح اس وقت تک ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہےگا۔ پنجاب کے بعض دوسرے شہروں میں جمعہ کو بسنت منائی گئی تھی اخباری اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں مختلف واقعات میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بسنت پنجاب کا ایک ایسا خونی تہوار ہے جو ہر سال متعدد افراد کی جانیں لے لیتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے شائقین میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||