چارقیدی جیل توڑ کر فرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کےعلاقےٹانک میں چار خطرناک قیدی جیل توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں دو کا تعلق وزیراور تین کا تعلق محسود قبائل سے ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیر ستان نے قیدیوں کے فرارسے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ٹانک میں پو لیٹیکل ایجنٹ کی حوالات سے پانچ قیدی فرار ہوگئے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کس نوعیت کے قیدی تھے۔ کئی ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ قیدی رات کو جیل کا مرکزی دروازہ توڑ کر فرار ہوئے۔ مگر پولیٹکل انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جیل کے دروازے کا تالا کھلا رہ گیا تھا جب ڈیوٹی پر معمور اہلکار دروازے کے سامنے سو رہے تھے تو قیدیوں نےخاموشی سے دروازہ کھول دیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہےکہ جنوبی وزیرستان کے شمال مغرب علاقے لدھا میں نامعلوم افراد نےایک قبائلی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ رہنما پاکستان کواس علاقے میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے بارے میں اطلاعات فراہم کررہےتھے۔ سکیورٹی کےایک اہلکار نےاپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ قبائلی رہنما ملک محبوب جوریخیل کو جمعہ کو کس نے سپن کرغزئی کےعلاقے میں گولی مار کر ہلاک کیا۔ یہ گاؤں مشرقی لدھا سے پچاس کلو میٹر دور ہے۔ جنوبی وزیرستان کےحکام حکومت کےحمایتی قبائلی رہنماؤں کے قتل کے لیے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کا علاقہ افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔ کچھ عرصے سے یہ علاقہ اور سرحد پار کے علاقے القاعدہ کے جنگجؤوں کی تلاش کی وجہ سے میدان جنگ بن گئے ہیں۔ پاکستان نےاس خطے میں ستر ہزار کے قریب فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||