مرزا طاہر کی سزائے موت پھر مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی پھانسی پر تیسری مرتبہ عمل درآمد ایک ماہ کے لیئے مؤخر کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ملک صفدر نواز نے جمعرات کے روز بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ایوانِ صدر سے ایک بار پھر ایک ماہ کے لیئے مرزا طاہر کی سزائےِ موت پر عمل روکنے کا حکم موصول ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام میں سزائےِ موت پانے والے مرزا طاہر حسین کو پھانسی دینے کے لیئے تین اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ بعد میں جیل حکام نے ان کی موت کے وارنٹ بھی جاری کردیئے تھے۔ مرزا طاہر حسین کے بڑے بھائی مرزا امجد حسین نے برطانیہ سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لیئے یہ کوئی اچھی خبر نہیں بلکہ پورے خاندان کی مصیبتوں میں ایک ماہ مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے میرے بھائی کو رہا کریں یا ان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کریں۔‘ واضح رہے کہ گزشتہ اٹھارہ برس سے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام میں قید مرزا طاہر حسین اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔ جیل حکام کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں تین مرتبہ صدر مشرف ان کی سزا پر عمل درآمد ایک ماہ کے لیئے ملتوی کرنے کا حکم دے چکے ہیں۔ اس دوران مرزا کے رشتہ دار مقتول کے لواحقین کو رضامند نہیں کر پائے ہیں۔ مرزا طاہر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سن انیس سو اٹھاسی میں اس وقت قتل کیا جب وہ برطانیہ سے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا رہے تھے۔ اس وقت ملزم کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مرزا طاہر حسین کو بندوق کے زور پر جنسی ہراساں کرنے اور لوٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران ہاتھا پائی میں بندوق چلنے سے ڈرائیور قتل ہوگیا تھا۔ پاکستان میں انہیں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یکم جون کو ان کی چھتیسویں سالگرہ کے موقع پر انہیں پھانسی دی جانے والی تھی۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے بھی انہیں موت کی سزا نہ دینے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی تھی۔ برطانوی ارکان پارلیمان نے بھی مرزا طاہر کو سزائے موت سے بچانے کے لیئے ایک مہم شروع کی تھی۔ ان کی کوششوں کے بعد حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چوھدری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے مقتول ڈرائیور کے اہل خانہ سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے خون بہا وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مرزا طاہر حسین کے وکیل سینیٹر خالد رانجھا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مرزا طاہر حسین کو ٹرائل کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی اور لاہور ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران سزا معطل کرکے ٹرائل کورٹ کو دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ ان کے مطابق دوبارہ سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ نے مرزا طاہر کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا دے دی۔ وکیل نے بتایا کہ جب عمر قید کی سزا کے خلاف دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ خالد رانجھا نے بتایا کہ بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے لکھا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور اپیل کی سماعت کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو ہے۔ جس پر ان کے مطابق شرعی عدالت نے سماعت کی اور ملزم کو نوٹس دیئے بغیر سزائے موت سنا دی۔ انہوں نے بتایا کہ تین رُکنی شرعی عدالت کے بینچ میں سے ایک جج نے سزائے موت کی مخالفت کی تھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہوگئی اور بعد میں نظر ثانی کی درخواست بھی رد کر دی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ اسلامی قانون کے تحت اب مرزا طاہر کو سزا سے بچانے کا واحد ذریعہ مقتول کے ورثاء کی جانب سے انہیں معاف کرنے کی صورت میں باقی ہے۔ مقتول ڈرائیور کے بھائی نے پہلے کہا تھا کہ وہ قبائلی پشتون ہیں اور اپنی روایات کے مطابق خون کے بدلے رقم لینے کو بڑی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ یا تو بدلہ لیتے ہیں یا پھر معاف کردیتے ہیں لیکن تاحال انہوں نے مرزا طاہر کو معاف نہیں کیا۔ | اسی بارے میں سزائے موت ایک ماہ کے لیئے مؤخر23 May, 2006 | پاکستان بچوں نے پھانسی سے بچا لیا07 June, 2006 | پاکستان مرزا طاہر: پھانسی تین اگست کو21 July, 2006 | پاکستان پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||