BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طاہرکی پھانسی پرعمل درآمد ملتوی

مرزا طاہر حسین
مرزا طاہر حسین گزشتہ اٹھارہ سال سے جیل میں ہیں۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل میں سزائے موت پانے والے برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی سزائے موت پر دو ماہ کے لیئے عمل درآمد روک دیا ہے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے وارنٹ سیکشن کے انچارج محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں جمعرات کی دوپہر کو ایوان صدر سے فیکس کے ذریعے حکم ملا ہے کہ اکتیس دسمبر تک سزا پر عمل نہ کیا جائے۔

اٹھارہ برس قبل ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے جرم میں سزائے موت کے منتظر برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو پروگرام کے مطابق یکم نومبر کو پھانسی دی جانی تھی۔

مرزا طاہر کی پھانسی رکوانے کے لیئے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے پاکستانی صدر پرویز مشرف سے بدھ کے روز ایک بار پھر بات چیت کی۔برطانوی وزیر اعظم نے مرزا طاہر کی پھانسی کا معاملہ صدر مشرف کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران بھی اٹھایا تھا۔

یہ بھی محض اتفاق ہے کہ پاکستان کی جیل انتظامیہ نے یکم نومبر کو پھانسی دینے کی جو تاریخ مقرر کی تھی ان دنوں برطانوی پرنس چارلس اپنی بیگم کے ہمراہ پاکستان میں موجود ہوں گے۔ وہ انتیس اکتوبر سے تین نوبر تک پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں پرِنس چارلس سے اپیل کی گئی تھی کہ اگر مرزا طاہر حسین کی سزا پر عمل درآمد روکا نہیں جاتا تو وہ پاکستان کا دورہ معطل کردیں۔

اس طرح کی خبریں جمعرات کو پاکستانی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کی ہیں جس کے چند گھنٹے بعد ایوان صدر سے پھانسی چوتھی بار روکنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

مرزا طاہر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سن انیس سو اٹھاسی میں اس وقت قتل کیا جب وہ برطانیہ سے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا رہے تھے۔ اس وقت ملزم کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ جبکہ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مرزا طاہر حسین کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران ہاتھا پائی میں گولی چلنے سے ڈرائیور ہلاک ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ مرزا طاہر حسین کو سزائے موت سنانے والی مقامی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اس سزا کا دوبارہ جائزہ لیا تھا اور اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

تاہم ملزم کی جانب سے اس سزا کو بھی چیلنج کیئے جانے کے بعد شرعی عدالت نے سزا دوبارہ بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کر دی تھی۔

صدر کی جانب سے بارہا سزا پر عمل درآمد روکنے کے بعد حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چوھدری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے مقتول ڈرائیور کے اہل خانہ سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے خون بہا وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مرزا طاہر کے بڑے بھائی مرزا امجد حسین کے مطابق انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے مقتول کے ورثاء کو خون بہا دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کیا تھا۔

مقتول ڈرائیور کے بھائی نے پہلے کہا تھا کہ وہ قبائلی پشتون ہیں اور اپنی روایات کے مطابق خون کے بدلے رقم لینے کو بڑی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ یا تو بدلہ لیتے ہیں یا پھر معاف کردیتے ہیں لیکن تاحال انہوں نے مرزا طاہر کو معاف نہیں کیا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد