مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی شہری مرزا طاہر نے مبینہ طور پر انیس دسمبر سن انیس اٹھاسی کو چکوال جاتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کا قتل کیا۔ راولپنڈی کے تھانہ سہالہ میں ایف آئی آر نمبر 126/88 درج کی گئی ہے جس کے مطابق ملزم نے قتل کا اقرار کیا ہے اور پولیس نے ان سے پستول اور گاڑی نمبر IDB 4049 برآمد کی ہے۔ مرزا طاہر حسین مغل ضلع چکوال کے گاؤں بیڑ کے رہائشی ہیں اور انہیں اسلام آباد کے سیشن جج نے تیس ستمبر 1989 میں سزائے موت سنائی۔ ملز م نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں اپیل کی عدالت نے دوبارہ رائل کورٹ کو سماعت کا حکم دیا اور اس عدالت نے تین اپریل انیس سو چورانوے کو دوبارہ فیصلہ سنایا اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا۔ مقتول کے چچا صحبت خان کے مطابق جب عمر قید کی سزا کے خلاف ملزم نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی تو عدالت نے معاملہ شریعت کورٹ کو بھیج دیا۔ ان کے بقول شریعت کورٹ نے بیس مئی انیس سو اٹھانوے کو سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم سنایا۔جس کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں اپیل کی اور اس عدالت نے یکم دسمبر سن دو ہزار تین کو فیصلہ برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر ہوئی لیکن نو اکتوبر سن دو ہزار چار کو سزائے موت بحال رکھی گئی۔ بعد میں انہوں نے صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی جو تیرہ مارچ سن دو ہزار چھ کو مسترد ہوگئی۔ رواں سال تین مئی کو پہلی بار پھانسی کی تاریخ مقرر ہوئی جو عین وقت پر ایک ماہ کے لیے مؤخر کردی گئی اور اس کے بعد چوتھی بار صدر نے اب پھانسی اکتیس دسمبر تک مؤخر کر دی ہے۔ | اسی بارے میں طاہرکی پھانسی پرعمل درآمد ملتوی19 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر، پھانسی یکم نومبر کو18 October, 2006 | پاکستان مرزا کی پھانسی، بلیئر کی اپیل18 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر حسین کی بلیئر سے اپیل06 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر کی سزائے موت پھر مؤخر 27 July, 2006 | پاکستان مرزا طاہر: پھانسی تین اگست کو21 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||