مرزا کا مقدمہ: حصہ دوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقدمہ کو سب سے پہلے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے سنا۔ جنہوں نے اس مقدمہ کی شہادت بھی قلمبند کی تھی۔ ایڈیشنل جج نے اپنہ فیصلہ مورخہ تیس دسمبر انیس سو انانوے میں مرزا کو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت کا حکم صادر کیا۔ ٹیکسی چھیننے کے جرم میں دفعہ 392 اور حدود کی دفعہ 20 کے تحت مرزا کو دس سال کی قید بامشقت کا حکم صادر کیا گیا۔ نومبر انیس سو بانوے میں جب عدالتِ عالیہ لاہور کے راولپنڈی بنچ نے اس مقدمہ کی اپیل کی سماعت کی تو محسوس کیا کہ ماتحت عدالت نے کئی معاملات کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ چناچہ مقدمہ کو ماتحت عدالت میں اسی حکم کے ساتھ بھیج دیا گیا کہ مقدمہ کو دوبارہ سنا جائے۔ اس مرتبہ وہ جج صاحب تبدیل ہو گئے تھے۔ چناچہ سیشن جج نے اس مقدمہ کی سماعت دوبارہ کی۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قتل کا جرم گو کہ ثابت ہوتا ہے مگر اس حد تک نہیں سزائے موت دی جائے چنانچہ انہوں نے دفعہ 302 کے تحت مرزا کو عمر قید کی سزا تجویز کی اور دفعہ 20 حدود آرڈیننس کے تحت سات سال قید کا حکم صادر فرمایا۔ یہ فیصلہ تیس اپریل انیس سو چورانوے کو سنایا گیا تھا۔ اس مقدمہ کے خلاف مرزا اور مقبول کے ورثاء نے جب ہائیکورٹ میں اپیل اور نگرانی دائر کی تو ہائیکورٹ کو خیال آیا کہ کو خیال آیا کہ چونکہ مقدمہ قتل کے ساتھ ساتھ حدود کے تحت بھی سزا دی گئی ہے تو اس کی سماعت تو فیڈرل شریعت کورٹ کو کرنی چاہیئے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ہائیکورٹ کے ان دو جج حضرات جنہوں نے اس مقدمہ کی 1992 میں سماعت کی تھی اور اسے ماتحت عدالت میں ریمانڈ کیا کیوں اس باریک نقطہ پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی۔ خیر مقدمہ فیڈرل شریعت کورٹ بھیج دیا گیا۔ فیڈرل شریعت کورٹ میں دو قسم کے جج براجمان ہوتے ہیں۔ ایک جو اپنے فقہی علم کی وجہ سے جج بنائے جاتے ہیں۔ ان کے پاس قانون کی کوئی ڈگری ہونا لازم نہیں چناچہ قانون شہادت، ثبوتِ مقدمہ اور پروسیجرل قانون سے انہیں چنداں واقفیت نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کے ساتھ ایسے جج حضرات بٹھائے جاتے ہیں جو ملکی قانون سے واقفیت رکھتے ہوں اور شریعت کا علم بھی رکھتے ہوں۔ اس مقدمہ کو فیڈرل شریت کورٹ کے جس بنچ نے سنا اس میں کم از کم ایک جج ایسے تھے جو فقہی علم کی بنیاد پر اس عدالت کے جج بنے تھے۔ جناب ڈاکٹر فدا محم خان دوسرے جج صاحب ایسے تھے کہ فقہ اور مروجہ قانون پر مکمل دسترس رکھتے تھے اور ہائی کورٹ کے جج رہ چکے تھے۔ میری نظر سے اس بنچ کے تیسرے جج جناب جسٹس خیر خان کی کوئی رپورٹڈ ججمنٹ نہیں گزری۔ فیڈرل شریت کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل اس بنچ نے 29 جولائی 1998 کو تقریباً وقوعہ کے دس سال کے بعد اس مقدمہ کو سماعت کیا۔ یہ فیصلہ تقریباً بیس ہزار الفاظ پر مبنی ہے۔ مروجہ قانون اور شریعت کے ماہر جج جناب جسٹس عبدالوحید صدیقی نے اس فیصلہ پر نہایت غور و فکر کیا اور فطری انصاف کے تقاضوں کے تحت اس بات کی ذمہ داری پولیس پر عائد کی کہ وہ ثابت کرے کہ یہ قتل مرزا طاہر حسین بیگ نے کیا ہے۔ انہوں نے طاہر بیگ کی کہانی میں سقم تلاش کرنے کی بجائے اس شہادت پر غور کیا جو پولیس کے پاس موجود تھی۔ جسٹس صدیقی نے اپنے فیصلے میں ایک چارٹ بنا کر پیش کیا کہ پولیس کے گواہان کے بیانات کس طرح اس ساری پولیس کی کہانی کو جھوٹ بناتے ہیں۔ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ پٹرول پمپ کا ملازم رات کے گیارہ بجے جب پٹرول پمپ پر لوڈ شیڈنگ تھی صرف جنریٹر سے پمپ چلایا جا رہا تھا اس نے ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر خون کے نشانات دیکھ لیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مرزا نے چلتی گاڑی سے ڈرائیور کو قتل کیا اور لاش گھسیٹ کر سڑک کے کنارے کھڈے میں پھینک دی تو مقتول کے کپڑوں پر اور لاش پر ایسے کوئی نشانات کیوں نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ دو غیر متنازعہ گواہوں نے کیوں نہ عدالت میں کہا کہ مرزا نے ان کے سامنے قتل کرنا تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر خون تھا۔ یہ کہاں سے آیا، یہ کس کا خون تھا۔ بقول پولیس مرزا تو پچھلی سیٹ پر تھا۔ اور اس نے پیچھے سے فائر کیا تو یہ خون کہاں سے آ گیا۔ اگر مرزا نے پچھلی سیٹ سے فائر کیا تو اس نے چھاتی پر کیوں کیا۔ سر پر کیوں نہ کیا۔ جبکہ پچھلی سیٹ سر پر گولی چلانا زیادہ آسان ہے۔ کیا خون اچھل کر اس اگلی نشست پر آ گیا۔ یہ ناممکن سا لگتا ہے کیوں کہ مقتول نے بنیان، قمیض اور دو جرسیاں پہن رکھی تھیں۔ لاش پر نشانات یہ بتاتے ہیں کہ ضرور ایک لڑائی لڑی گئی تھی۔ نشست کے خون کے نشانات، مقتول کے خون سے موازنہ کے لیے کیوں نہ بھیجے گئے اور اگر بھیجے گئے تو وہ رپورٹ کیوں نہ پیش کی گئی۔ اگر متقول ایک پروفیشنل ٹیکسی ڈرائیور تھا تو اس کا ڈرائیونگ لائسنس کیوں نہ پیش کیا گیا۔ دو گواہان کہتے ہیں کہ پوسٹ مارٹم 20 دسمبر کو 1988 کو کیا گیا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ 19 دسمبر 1988 کو کیا گیا۔ پولیس نے اپنی کہانی مضبوط بنانے کے لیے مرزا کے خلاف ایک اور رپورٹ بھی درج کی تاکہ ثابت ہو سکے کہ مرزا ایک عادی مجرم ہے۔ جج صاحب نے سوال اٹھایا کہ مرزا کو آخر اس پٹرول پمپ پر ٹیکسی روکنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جس کے پاس ہی پولیس موجود تھی۔ جب مرزا نے لڑکے کو پولیس کے پاس جاتے دیکھا تو مرزا اتر کر بھاگا کیوں نہیں۔ مرزا جو لندن سے آ رہا تھا پاکستان کا بنا ہوا پستول کہاں سے خرید پایا اور پھر خنجر کہاں سے لے لیا۔ جج صاحب نے وکیلِ صفائی کی اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ مرزا کی تصویر سے ظاہر ہے کہ وہ ایک خوبصورت لڑکا تھا جو انگلینڈ میں پڑھا بڑھا تھا۔ ڈرائیور جو کہ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتا تھا اپنی جنسی خواہش پر قابو نہ رکھ سکا ہو گا۔ یہ ناممکن نہیں ہے۔ ایسے واقعات پہلے بھی ہوئے۔ جج صاحب نے کہا کہ ڈرائیور اپنے پاس پستول بھی رکھتے ہیں اور جب لمبے سفر پر روانہ ہوں تو عموماً ساتھی کو بھی ساتھ لے لیتے ہیں۔ یہ بات زیادہ سچ کے قریب ہے کہ پستول اور اس کا خول ڈرائیور کا تھا۔ جج صاحب نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر گولی گاڑی کے اندر چلی تھی تو خول گاڑی کے باہر سے کیسے برآمد کیا گیا۔ جو بات پولیس کے لیے شرمناک ہے اور مکمل جھوٹ ہے وہ خنجر کی برآمدگی ہے۔ ایس ایچ او کے بقول یہ خنجر مرزا کے بیگ سے برآمد ہوا۔ جبکہ پولیس نے گواہان کی موجودگی میں بیگ سے سامان کی تلاشی سے جو سامان کی لسٹ بنائی ہے اس میں خنجر شامل نہیں ہے۔ اگر مرزا کو ایک ٹیکسی ہی لوٹنی تھی تو اس نے ایک پرانی اور چھوٹی ٹیکسی ہی کا کیوں انتخاب کیا۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ پولیس نے ایک اور ٹیکسی کے چھیننے کا جھوٹا مقدمہ بنا کر، زبردستی کا خنجر مرزا سامان سے برآمد کر کے اپنے ڈوبتے ہوئے مقدمہ کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی شہادت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ مرزا نے جمشید مقتول کا قتل کیا یا ٹیکسی چھینی ہے۔ ایک تفصیلی اور وجوہات پر مبنی فیصلہ کے بعد جسٹس صدیقی نے مرزا کو الزامات سے بری قرار دیا اور ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ مگر عدالت کے دوسرے دو جج صاحبان نے مرزا کے خلاف فیصلہ دیا جس کے تحت شریعت بنچ کے جج صاحبان نے مرزا کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا وہ فیصلہ شریعت کے ماہر جج صاحب ڈاکٹر فدا محمد خان نے لکھا۔ یہ فیصلہ صرف 5583 الفاظ پر مشتمل ہے۔ اس فیصلہ میں ڈاکٹر فدا محمد خان نے اپنے ساتھی جج کے ان الفاظ کی طرف کوئی توجہ ہی نہ دی جس سے پولیس کی بدنیتی واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فدا محمد خان نے یہ کیا کہ پولیس کی پیش کی ہوئی شہادت، متضاد بیانات اور جھوٹے مقدمہ پر اندراج کی بجائے مرزا کی کہانی پر بحث کی جبکہ مقدمہ کو ثابت کرنا پولیس کا کام تھا۔ مرزا جو قتل کے دن سے آج تک سلاخوں کے پیچھے بند ہے کیا ثابت کر سکتا تھا۔ کیا کہہ سکتا تھا۔ ڈاکٹر فدا محمد نے یہ سوال اٹھائے: چونکہ مرزا کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں اسلیئے یہ جرم مرزا سے ہی سرزد ہوا ہے۔ ڈاکٹر فدا محمد خان صاحب نے مرزا کو دفعہ 302 تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزائے موت اور ٹیکسی چھیننے کے جرم میں دفعہ 20 حدود آرڈیننس کے تحت دس سال قید کی سزا دی۔ پانچ سال بعد یکم دسمبر 2003 کو اس مقدمہ کی اپیل کی سماعت شریعت اپیلیٹ بنچ سپریم کورٹ نے کی۔ یہ بنچ پانچ جج صاحبان پر مشتمل تھا۔ فیصلہ چیف جسٹس سپریم کورٹ چیئرمین شریعت بنچ نے تحریر کیا جس پر باقی کے چار جج صاحبان نے بھی دستخط کیے۔ چھ سات صفحے کے اس فیصلہ میں ایک لفظ بھی پولیس کی متنازعہ شہادت، جھوٹے مقدمہ اندراج، گواہان کے متضاد بیانات اور جسٹس صدیقی کے فیصلے میں اٹھائے گئے نکات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ الٹا مرزا کے بیان پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس سے ان کے جواب نہ پوچھے گئے۔ مرزا کی سزائے موت کا حکم برقرار رکھا گیا۔ انیس اکتوبر 2004 کو اس فیصلے پر نظرۃ ثانی کی درخواست کی سماعت سنی گئی اور اسی روز اس پر فیصلہ صادر کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ 600 الفاظ پر مشتمل ہے۔ مرزا کو سزائے موت کا فیصلہ ہمارے ملک میں رائج فوجداری عدالتی نظام کی کہنا ہے۔ جہاں کئی مرتبہ بے گناہ سزائے موت کے مستحق گردانے جاتے ہیں اور گناہ گار پیسے، سفارش اور زور کے دھونس پر ہر مقدمہ سے بری ہو جاتے ہیں۔ میری صدر جنرل پرویز مشرف سے التجا ہے کہ ایسے تمام مقدمات جن کی تفتیش محمد عارف انسپکٹر نے کی ہے دوبارہ تفتیش کی جائے اور خصوصاً جسٹس صدیقی کے اس جامع اور مفصل فیصلہ کا مطالعہ فرمائیں جو انہوں نے مرزا طاہر حسین کے مقدمہ میں لکھا ہے۔یہ فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مرزا طاہر کیس میں کئی باتوں کو نظر انداز کیا گیا اور کئی سوالوں کے جوابات نہیں دیے گئے۔ پاکستان کا قانون جہاں صدر کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ آرٹیکل 45 کے تحت ملزم کی رہائی کا حکم دیں وہیں سپریم کورٹ کو بھی اختیار دیتا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کسی بھی وقت، کسی بھی وجہ سے اپنے یا ماتحت عدالت کے فیصلے کی دوبارہ سماعت کا حکم صادر فرمائے۔ میں پاکستان کی سپریم کورٹ سے بھی التماس کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کا ایک بڑا بنچ تشکیل دے کر اس مقدمہ کی از سرِ نو سمماعت کا فیصلہ دے اور اس مقدمہ کا فیصلہ اس بنیاد پر دے کہ قتل ثابت کرنا پولیس کا ذمہ تھا، سوالات اٹھا کر مرزا کو سزائے موت کا حکم صادر نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس نے مرزا کی کہانی جیسا کہ مرزا نے بتائی تھی کیوں نہ لکھی۔ اس بات کی سزا مرزا کو نہیں ملنی چاہیئے۔ نوٹ: سید طاہر حیدر واسطی واحد پاکستانی ماہر قانون ہیں جنہوں نے قصاص و دیت میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے۔ اس وقت انگلینڈ کے سپریم کورٹ میں سولسٹر ہیں اور اس سے قبل پاکستان میں ایڈووکیٹ رہ چکے ہیں۔ | اسی بارے میں طاہرکی پھانسی پرعمل درآمد ملتوی19 October, 2006 | پاکستان ’یکطرفہ کہانی شائع ہورہی ہے‘21 October, 2006 | پاکستان مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟20 October, 2006 | پاکستان قصاص و دیت اور فوجداری نظام23 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||