BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 November, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرزا کا مقدمہ: حصہ اول

مرزا طاہر حسین
اٹھارہ سال جیل میں گزارنے کے باوجود سزائے موت کا پھندا سر پر لٹک رہا ہے
اٹھارہ اور انیس دسمبر انیس سو اٹھاسی کی رات کو دس بجے کے قریب راولپنڈی۔لاہور کے جی ٹی روڈ پر روات اور کہوٹہ کے جنکشن کے نزدیک کیا ہوا کوئی نہیں جانتا ماسوائے عالم الغیب و موجودات اللہ تعالیٰ کے، مقتول جمشید ٹیکسی ڈرائیور کے یا مانچسٹر کے مرزا طاہر حسین کے۔

خدا اور جمشید مقتول سے پوچھنا کسی تجزیہ نگار کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ ہم صفحہ مثل پر موجود شہادت کی ہر مدد یہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اس اندھے قتل کی ایسی کونسی شہادتیں موجود تھیں کہ مرزا کو سزائے موت سنانا ہی منصف نے مناسب سمجھا۔ مگر اس سے پہلے میں مشرق اور مغرب کے تبصرہ نگاروں اور پڑھنے والوں کے سامنے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس سزائے موت کے فیصلہ کا اسلام کی خوفناک سزاؤں والے تھیسس اور شریعت کے قوانین سے ذرا بھی تعلق نہیں۔

مرزا کو جس قانون کے تحت سزائے موت دی گئی ہے وہ انگریز بادشاہ کا بنایا ہوا قانون ہے ۔ یہ وہ قانون ہے جسے اس زمانے کے قانون دانوں نے برطانیہ کا مستقبل کا قانون کہا تھا۔ مرزا کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت کا مستوجب قرار دیا گیا ہے۔

اسلام کا قصاص و دیعت کا قانون 1990 میں لاگو کیا گیا تھا۔ اس لیے اس مقدمہ میں غیر ترمیم شدہ دفعہ 302 کے تحت سزا تجویز کی گئی ہے۔

ہوا کیا؟

مقدمہ مرزا طاہر حسین بنام سرکار ماہانہ قانونی رپورٹ 1999 صفحہ 2675 پر اس وقوعہ کو مختصراً ان الفاظ میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ کہ اٹھارہ دسمبر 1988 کی رات ساڑھے گیار بجے محمد عارف شکایت کنندہ / تفتیشی افسر / ایس ایج او پولیس اسٹیشن سہالہ اپنی ڈیوٹی پر میر داد ہوٹل بی ٹی روڈ پر موجود تھے کہ امجد مسعود ان کے پاس آیا اور اطلاع دی کہ ایک شخص مشتبہ حالات میں نزدیکی پٹرول پمپ پر ٹیکسی میں موجود ہے۔ ٹیکسی کی مسافر سیٹ پر خون کے دھبے ہیں۔ اس شخص نے ٹیکسی میں پٹرول ڈلوایا ہے مگر ٹیکسی سٹارٹ نہیں ہو رہی۔ سنتے ہی محمد عارف ایس ایچ او اپنے اہل کاروں کے ہمراہ پیٹرول پمپ پر پہنچے اور ڈرائیور مرزا طاہر سے کچھ سوالات کیے۔ مناسب جواب نہ ملنے پر مرزا کی تلاشی لی گئی جس کے پاس سے ایک تیس بور کا پستول بلا لائسینس بر آمد ہوا۔ نتیجتاً غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم کی رپورٹ تیار کی گئی اور تفتیش شروع کر دی گئی۔ مزید تلاشی پر مرزا کے سامان سے ایک خنجر بھی بر آمد ہوا۔ دوران تفتیش ’مرزا‘ سے یہ معلوم ہوا کہ اس نے راولپنڈی سے ایک ٹیکسی کرائے پر لی تھی، جونہی یہ ٹیکسی جی ٹی روڈ پر پہنچی تو مرزا نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹیکسی روک دو اور اسے چھوڑ کر بھاگ جاؤ ۔ ڈرائیور نہ مانا۔ مرزا نے ڈرائیور کو تیس بور کے اس پستول سے قتل کردیا اور اسے سڑک کے کنارے پھینک دیا۔ اس قتل کے بعد مرزا اسی ٹوٹی ہوئی کار میں پٹرول پہنچا اور اس میں پٹرول ڈلوایا ۔ مگر ٹیکسی سٹارٹ نہ ہوئی۔ اس اقرار جرم کے بعد مرزا کے خلاف دفعہ 302 اور حدود آرڈینینس کی دفعہ 20 [ ہائی وے روبنگ] کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پٹرول پمپ پر ایس ایچ او ابھی اس مقدمہ کی تفتیش کر ہی رہے تھے کہ شیر خان ٹیکسی کے مالک اور محبت خان انکے دوست، جمشید مقتول اور ٹیکسی کی تلاش میں اسی پٹرول پمپ پر پہنچ گئے۔ ان حضرات کو لیکر ایس ایچ او محمد عارف مرزا کی نشاندہی پر لاش تک پہنچے اور اسے بر آمد کیا۔


پوسٹ مارٹم کی رپورٹ

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق مقتول کی لاش پر چوٹ کے چھ نشانات تھے۔ [1) سر پر ایک خراش ، چہرے پر ایک خراش، دائیں آنکھ پر سوزش ، دائیں آنکھ کے نتھنے پر خون ، ایک زحم چھاتی پر جہاں سے گولی اندر داخل ہوئی ، ایک زخم چھاتی پر جہاں سے گولی نکلی۔

شواہد

مقدمہ کو ثابت کرنے کی ذمہ داری پولیس پر تھی جس نے گیارہ گواہ پیش کیے۔ ظاہر ہے کوئی بھی عینی شاہد تو موجود نہ تھا۔ چنانچہ ساری شہادتیں واقعاتی ہی تھیں۔ ٹیکسی کے مالک شیر خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

پولیس کی چالاکی

مرزا طاہر حسین کے خلاف اسی روز شام میں ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ اس مقدمے کے مطابق مرزا نے 17 مئی 1988 ایک اور ٹیکسی کو بھی چھینا تھا۔ دوروز بعد درج کیے گیے اس مقدمہ میں کہا گیا تھا کہ کہ ساجد محمود بھٹی نے بتایا کہ 17 دسمبر انیس سو اٹھاسی کی شام ساڑھے چار بجے مرزا نے اس کی ٹیکسی چکوال روڈ جانے کی غرض سے کرائے پر لی تھی۔ ٹیکسی لینے سے پہلے مرزا نے ڈرائیور کو اپنا پاسپورٹ دکھایا جس پر مرزا طاہر حسین لکھا تھا اور اسکی تصویر لگی تھی۔ مرزا نے سامان کار کی ڈگّی میں رکھا اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ جب ٹیکسی ساڑھے پانچ بجے موگا موڑ جی ٹی روڈ پر پہنچی تو مرزا نے پستول نکالا اور ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی اور چابی مرزا کے حوالے کر دی ۔ گاڑی چھیننے کے بعد مرزا تیزی سے راولپنڈی کی طرف روانہ ہوگیا۔ انہیں ایس ایچ اوصاحب نے جنہوں نے پہلے مقدمات فوری طور پر درج کیۓ تھے یہ مقدمہ دو روز بعد خاص طور پر قتل کا مقدمہ درج ہونے کے بعد درج کیا۔ یہ مقدمہ بھی دفعہ 17حرابہ ، حدود آرڈی نینس 1979 کے تحت ہوا تھا۔ اس مقدمہ میں مجسٹریٹ درجہ اول راولپنڈی نے مرزا کو تین مئی سنہ انیس سو چورانوے کو باعزت طور پر بری کر دیا۔

مرزا کا بیان

مرزا کا کہنا ہے کہ وہ 16 دسمبر کو 1988 کو کراچی ایئر پورٹ پر اترے اور ایک دن وہیں اپنی خالہ کے پاس رہے۔ اگلے روز کراچی سے لاہور بذریعہ ٹرین پہنچے ۔ لاہور سے فلائنگ کوچ لیکر راولپنڈی پہنچے۔ ’تقریباً سات بجے کا وقت ہوگا جونہی میں فلائنگ کوچ سے اترا ڈرائیور حضرات نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ مگر جب انہوں نے یہ سنا کہ میں دیہات بھبھڑ ضلع چکوال جانا چاہتا ہوں تو وہ جھجک گئے۔ اسی دوران جمشید مرحوم وہاں آئے اور انہوں نے میری منزل کے بارے میں پوچھا اور یہ پوچھا کہ میں کہاں سے آیا ہوں۔ میں نے کہا میں لندن سے آیا ہوں۔ انہوں نے 500 روپئے کرایہ طے کیا اور مجھے رکنے کو کہا اور کہنے لگے کہ میں ایک اور آدمی کو تلاش کرتا ہوں جو ان کا سفر میں ساتھ دے گا۔

تھوڑی دیر بعد وہ ایک اور آدمی کے ساتھ آئے ۔ جمشید ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ گئے اور انکا دوست ساتھ والی سیٹ پر۔ تھوڑی دیر گاڑی چلی تھی کہ ڈرائیور اور انکا دوست آپس میں پشتو زبان میں جھگڑنے لگے۔ یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی تک آگئی۔ جب ڈرائیور نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی تو ڈرائیور کے ساتھی نے مجھے بتایا کہ ڈرائیور جمشید مجھ سے بد فعلی کرنا چاہتا ہے۔ جب جمشید نے یہ سنا تو تو اس نے پستول نکال لیا۔انکے درمیان دوبارہ ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ اسی دوران گولی چلی اور ڈرائیور کو لگ گئی۔ ڈرائیور نے فوری طور پر دروازہ کھولا اور باہر نکلنے کی کوشش کی مگر وہ وہیں گر گیا اور ڈرائیور کا ساتھی فرار ہوگیا۔ میں نے جمشید کو سہارا دینے کی کوشش کی مگر وہ زخم کی تاب نہ لا سکا اور دم توڑ گیا۔ میں سمجھا پولیس سٹیشن روات ہی اس علاقے کا پولیس اسٹیشن ہے اور یہاں پہنچا۔ مگر پولیس نے الٹا مجھے ہی اس مقدمے میں پھنسا لیا۔ پولیس نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ اصل مجرم کو تلاش کرنے میں ناکام رہی۔ اٹھارہ اور انیس دسمبر تک پولیس نہ تو مفرور کو تلاش کر سکی نہ ہی ٹیکسی کے مالک کا پتہ چلا۔ اسی لیے انیس دسمبر کی شام تک انہوں نے لاش کا پوسٹ مارٹم تک نہیں کروایا تھا‘۔

نوٹ: سید طاہر حیدر واسطی پاکستانی ماہر قانون ہیں جنہوں نے قصاص و دیت میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے۔ اس وقت انگلینڈ کے سپریم کورٹ میں سولسٹر ہیں اور اس سے قبل پاکستان میں ایڈووکیٹ رہ چکے ہیں۔

مقتول ٹیکسی ڈرائیور جمشیدمرزا طاہر کیس
میڈیا میں کہانی یکطرفہ ہے: مقتول کے ورثاء
مرزا طاہرقصاص و دیت بحث
مرزا طاہرکی سزا اور اسلامی قوانین
پھانسی ملتوی ہوگئی
ایوانِ صدر سے فیکس گیا اور پھانسی ملتوی
 مرزا طاہرکب کیسے کیا ہوا؟
مرزا طاہر کی پھانسی چوتھی مرتبہ مؤخر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد