قصاص و دیت اور فوجداری نظام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر احمد کو موت کی سزا نے ایک ایسی بحث کو چھیڑ دیا ہے جس کی تان ایک دفعہ پھر ملک میں نفاذ اسلام کی کوششوں پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ مرزا طاہر کو شرعی عدالت نے ایسے قانون کے تحت پھانسی کی سزا سنائی جو پاکستان میں نفاذ اسلام کے حامیوں کی کاوشوں سے ملکی قانون کا حصہ بنا اور اس نے قتل سے متعلق انگریز دور کے آزمائے ہوئے قانون کی ہیت ہی بدل ڈالی۔ قصاص و دیت کا قانون وفاقی شرعی عدالت کی پیدوار ہے جسے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے ملک میں اسلام کے نفاذ کے لیئے قائم کیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنما ایڈوکیٹ اسماعیل قریشی کی درخواست پر ضابطہ فوجداری کی تین سو شقوں کو غیر اسلامی قرار دے کر حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کی جگہ قصاص و دیت کے قانون کو نافذ کرے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو ٹھیک گردانتے ہوئے حکومتِ وقت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسلامی قانون کو نافذ کرے۔ بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دور میں اس وقت کے چیف جسٹس افضل ظلہ نے قصاص و دیت کے قانون کے نفاذ کو تبصرہ نگاروں کے مطابق اپنا ذاتی مسئلہ بنا کر حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ پیلز پارٹی کی حکومت تو جیسے تیسے سپریم کورٹ کا دباؤ سہنے میں کامیاب رہی لیکن ’مصطفیٰ جتوئی کی نگران حکومت‘ یہ بوجھ برداشت نہ کر سکی اور یوں قصاص و دیت کا قانون پاکستانی قانون کا حصہ بن گیا۔ ابتداء میں نگراں حکومت نے بھی اس قانون کو نافذ کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس قانون کے نفاذ کے لیئے تاریخ مقرر کر دی اور اس دوران ملکی تاریخ میں ایک دن ایسا بھی آیا جب قتل سے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں تھا۔ اس قانونی سقم کو ختم کرنے کے لیئے قصاص و دیت کے قانون کا نفاذ بذریعہ آرڈینینس پچھلی تاریخ سے کیا گیا۔ اس قانون کے تحت کسی شخص کا قتل ریاست کے خلاف نہیں بلکہ شخص کے خلاف جرم قرار دے دیا گیا اور مقتول کے خاندان یا مدعی کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ چاہیں تو قاتل کو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ اسی قانون کے تحت غیرت کے نام پر بیٹیوں اور بہنوں کا قتل کرنے والوں کو معافی مل جاتی ہے، کیونکہ مرنے والیوں کے قانونی ورثاء اسی خاندان کا ہی حصہ ہوتے ہیں جو قاتل کو معاف کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔
قصاص و دیت کے قانون پر تحقیق کرنے والے پہلے پاکستانی ماہر قانون ڈاکٹر طاہر واسطی کے مطابق اس قانون نے اقدام قتل کو فوجداری (کریمنل) کی بجائے ایک دیوانی (سول) جرم بنا دیا ہے، جس کے تحت مقتول کے ورثاء قاتل کو اپنی مرضی سے یا دباؤ میں آ کر معاف کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر واسطی نے قصاص و دیت کے موضوع پر یونیورسٹی آف لندن سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی تھی کہ اس سے معاشرے میں قتل کے واقعات کی شرح میں کمی واقع ہو جائےگی، جو کہ سراسر غلط ثابت ہو چکی ہے۔ سترہ سال سے لاگو اس قانون کے بعد ملک میں قتل ہونے کی شرح تو کم نہیں ہوئی لیکن اس نے جبر اور استحصال کی ایسی راہیں کھول دیں ہیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس قانون کے تحت مقدمہ بازی صرف اور صرف برابر کے فریقین کے درمیان ہی ممکن ہے۔ اگر قاتل کا تعلق مضبوط گھرانے سے ہو تو وہ باآسانی قانون کی دسترس سے بچ سکتا ہے لیکن اگر مقتول کے ورثاء مضبوط ہوں اور وہ دس سے بیس سال تک مقدمہ بازی کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہوں تو پھر ایک اور انتہا دیکھنے کی ملتی ہے جس کے تحت وہ قاتل کو دنیا میں نشان عبرت بنا دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال چند برس قبل میانوالی کے علاقے اباخیل میں سامنے آئی جہاں قتل کے جرم میں موت کی سزا پانے والے افراد کو بچانے کی خاطر ان کے خاندان نے اپنی پانچ بیٹیاں مقتول کے خاندان میں بیاہنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں ایک ایسی نابالغ لڑکی بھی شامل تھی جسے مقتول کے اسی سالہ بھائی سے بیاہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم اخبارات میں اس ’صلح‘ کی تفصیلات شائع ہونے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ لڑکیوں کی رخصتی نہ ہونے دے اور اپنی نگرانی میں طلاقیں کروائے۔ قاتل فریق نے بعد میں مقتول فریق کو اسی لاکھ روپے ’دیت‘ ادا کر کے سزا پر عملدرآمد سے کچھ روز قبل ہی مجرموں کو رہا کروا لیا تھا۔ مرزا طاہر احمد کے اس مقدمے کی طرح میانوالی کے اس مقدمے میں بھی سپریم کورٹ نے قاتلوں کی سزائے موت بحال رکھی تھی اور صدر پاکستان نے ان کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔
ایسے مقدموں میں مقتول کے ورثاء قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کے لیئے مطالبہ کرتے ہیں کہ معافی کے لیئے عورتوں سمیت سب کچھ لے آؤ۔ مرزا طاہر کے بھائی کے بقول وہ مقتول کے ورثاء کو ڈیرھ کروڑ روپے خون بہا ادا کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں لیکن ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کے والدین زیادہ مانگ رہے ہیں۔ مقتول ٹیکسی ڈرائیور کے چچا صحبت خان نے بی بی سی کو بتایا وہ کہ اٹھارہ برس سے اپنے بھتیجے کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن غیرت مند ہیں۔ اگر مقتولین کے ورثاء کمزور ہوتے تو یہ معاملہ اٹھارہ سال پہلے صرف ایک لاکھ ستر ہزار روپوں میں ختم ہو چکا ہوتا۔ قصاص و دیت کے تحت خون بہا کی رقم ایک لاکھ ستر ہزار روپے مقرر ہے۔ پاکستان میں سیاسی مقاصد کے لیئے راتوں رات قانون تبدیل ہوجانا عام سی بات ہے لیکن ایسے کسی قانون کو ختم کرنے کی کوئی مثال موجود نہیں ہے جس سے معاشرے اور اس کے عام افراد پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہوں۔ | اسی بارے میں مرزا طاہر کیس: کب کیا ہوا؟20 October, 2006 | پاکستان ’یکطرفہ کہانی شائع ہورہی ہے‘21 October, 2006 | پاکستان طاہرکی پھانسی پرعمل درآمد ملتوی19 October, 2006 | پاکستان مرزا کی پھانسی، بلیئر کی اپیل18 October, 2006 | پاکستان ’اسلام کے مطابق ترامیم ہونگے‘17 May, 2006 | پاکستان حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر28 March, 2006 | پاکستان بھائی کی رہائی، تین بہنیں ’ونی‘06 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||