’اسلام کے مطابق ترامیم ہونگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے بدھ کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا ہے کہ حکومت معاشرے کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لیئے اقدامات کر رہی ہے اور کئی قوانین میں ترامیم کر کے انہیں اسلام اور پیغمبر اسلام کی سنت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ مولانا راحت حسین کے سوال کے تحریری طور پر پیش کردہ جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں نافذ نو سو قوانین میں ترامیم کر کے انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کی سفارشات کی ہیں اور کئی دیگر موضوعات پر نئے قوانین بنانے کے مسودے بھی مرتب کیے ہیں۔ وزیر نے بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت نے بھی مرکز اور صوبوں میں نافذ کردہ دو ہزار کے قریب قوانین کا جائزہ لیا ہے اور ان میں سے ساڑھے تین سو قوانین میں ترامیم کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق شرعی عدالت کے کئی احکامات پر حکومت عمل درآمد کرچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور دستور کے مطابق اسلامی تعلیمات کے منافی کوئی قانون نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر کے اس تحریری بیان میں جن نو سو قوانین میں ترامیم کر کے انہیں اسلام کے عین مطابق بنانے کی بات کی گئی ہے اس سے بظاہر ایسا تاثر ملتا ہے کہ ملک میں پہلے سے نافذ ان قوانین میں ایسے سکم موجود ہیں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران محمد انور بھنڈر کے سوال پر ایوان کو بتایا گیا کہ ’چشمہ جوہری بجلی گھر دوئم، کے لیئے رواں مالی سال میں چھ ارب تینتیس کروڑ ستائیس لاکھ چالیس ہزار روپے درکار تھے لیکن حکومت نے صرف چار ارب روپے مختص کیے۔ پارلیمانی امور کے مملکتی وزیر کامل علی آغا نے ایوان کو بتایا کہ رواں سال جنوری کے آخر تک حکومت نے اس منصوبے کے لیئے تین ارب روپوں کے قریب رقم جاری کی لیکن خرچ پونے تین ارب روپے کے قریب ہوسکی۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ جولائی سن دوہزار گیارہ میں مکمل ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں کامل علی آغا نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیئے قائم متعلقہ ادارے کو سینتیس ارب بہتر کروڑ روپے جاری کردیے ہیں اور مقامی حکومتیں یہ رقم تقسیم کر رہی ہیں۔ قبل ازیں جب اجلاس شروع ہوا تو حزب مخالف کے رکن میاں رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر وزراء کی غیر موجودگی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ وزیر ایوان کی کارروائی کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایک دو وزراء کو فارغ نہیں کیا جاتا اس وقت تک صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ جس پر چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے کہا کہ اس تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں عامر چیمہ جنازہ: ہزاروں کی شرکت 13 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||