عامر چیمہ جنازہ: ہزاروں کی شرکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں پولیس کی زیر حراست ہلاک ہونے والے پاکستانی طالبعلم عامر چیمہ کو سنیچر کی سہ پہر گوجرانوالہ کے قریب ان کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ میں سپرد خاک کردیا گیا جہاں ان کے جنازے میں ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار افراد نے شرکت کی۔ عامر چیمہ کی میت سنیچر کی صبح سرکاری ہیلی کاپٹر میں گوجرانوالہ کینٹ پہنچی جہاں سے اسے وزیرآباد کے پاس ان کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ لایا گیا تو ہزاروں لوگوں نے میت کا پر جوش استقبال کیا۔ اردگرد کے قصبوں اور دیہاتوں سے آئے ہوئے ہزاروں لوگ ساروکی چیمہ میں جمع تھے۔ گاؤں میں تاحد نظر استقبال کے لیئے آنے والے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ مختلف مذہبی تنظیموں کے درمیان عامر چیمہ کی نماز جنازہ پڑھانے پر جھگڑا ہوتا رہا جسے ختم کرنے کے لیے عامر چیمہ کی نماز جنازہ ان کے والد چودھری نذیر احمد نے پڑھائی۔ اس کے بعد ان کے والد نے کہاکہ ان کے مرشد سید پیر افضل شاہ بھی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ انہوں نے دوسری نماز جنازہ پڑھائی۔ تقریبا دو بجے سہ پہر گاؤں کے قبرستان سے ملحق زمین میں ان کی تدفین کردی گئی۔ نماز جنازہ میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما منور حسن اور جماعت الدعوۃ کے امیر حمزہ نے شرکت کی۔ گوجرنوالہ کے ضلعی ناظم فیاض چٹھہ بھی ان کے گھر تعزیت کے لیے گئے۔
گاؤں میں جگہ بینرز لگے ہوئے تھے جن پر عامر چیمہ کو شہید قرار دیا گیا تھا۔ ان بینرز میں انہیں انگریز دور میں پیغمبر اسلام حضرت محمد کی شان میں مبینہ گستاخی کرنے والے ہندو کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی پانے والے غازی علم الدین شہید کا وارث قرار دیا گیا تھا۔ ایک بینر پر لکھا ہوا تھا۔ ’مشرف جاؤ، قاتل کو لاؤ۔‘ ساروکی گاؤں میں غم اور سوگ کی بجائے ایک جشن کی سی فضا تھی۔ گاؤں کی سڑکوں اور بازاروں کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے جگہ جگہ پانی کی سبیلیں لگائی ہوئی تھیں۔ سنیچر کی صبح لاہور ائرپورٹ پر پی آئی اے کی پرواز عامر چیمہ کی میت جرمنی سے لاہور لے کر آئی تھی۔ پنجاب کے صوبائی وزیر شجاع خانزادہ نے میت کو وصول کیا تھا اور اس پر پھول چڑھائے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت عامر چیمہ کے خاندان کے غم میں شریک ہے۔ میت کو پنجاب حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر میں عامر چیمہ کے چچا عصمت اللہ اور ان کے ماموں چودھری اسلم کے ہمراہ گوجرانوالہ کینٹ پہنایاگیا۔ گوجرانوالہ کینٹ میں ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) اور کور کمانڈر گوجرانوالہ نے میت وصول کی۔ گزشتہ روز پاکستان میں متعین جرمنی کے سفیر ڈاکٹر گنڈ مولیک نے کہاتھا کہ عامر چیمہ کی موت کے بعد ہونے والی اعلی سطحی تحقیقات میں ان پر تشدد کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ پاکستان کے انصار برنی ٹرسٹ کے چئرمین انصار برنی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ عامر چیمہ نے جیل میں خود کشی کی اور انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹرسٹ کے دو ارکان نے برلن میں عامر کی ہلاکت کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقییقات کی ہیں۔ تاہم ملک میں مذہبی جماعتیں عامر چیمہ کی خودکشی کو تسلیم نہیں کر رہیں اور انہیں شہید قرار دیا جارہا ہے۔ جمعہ کو لاہور میں جمعیت اہل حدیث اور مجلس عمل نے عامر چیمہ کی ہلاکت پر احتجاجی جلوس نکالے۔ | اسی بارے میں عامر چیمہ کی میت لاہور پہنچ گئی13 May, 2006 | پاکستان عامر چیمہ، پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی13 May, 2006 | پاکستان ڈھوک کشمیریاں کا عامر11 May, 2006 | پاکستان عامر چیمہ: پاکستان کا ’نیا ہیرو‘08 May, 2006 | پاکستان گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||