عامر چیمہ: پاکستان کا ’نیا ہیرو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار مئی کو برلن میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے اٹھائیس سالہ پاکستانی طالبعلم عامر چیمہ پاکستان کے نئے ہیرو بنتے جا رہے ہیں۔ متعدد مذہبی جماعتوں، کالم نگاروں اور کچھ سیاسی رہنماؤں نے انہیں سچا عاشق رسول، شمع رسالت کا پروانہ اور شہید قرار دیا ہے۔ دس مئی کو عامر چیمہ کی میت اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔ مذہبی جماعتوں نے میت کے زبردست استقبال کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم شباب ملی نے اس دن ملک بھر میں ہڑتال کامطالبہ کیا ہے۔ جرمنی میں ایک میگزین کے مدیر پر حملہ کرنے کے الزام میں عامر چیمہ کو بیس مارچ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وہ ٹیکسٹائل کی اعلی تعلیم کے لیے نومبر سنہ دو ہزار چار سے جرمنی میں مقیم تھے۔ پاکستان کے اکثر اخبارات عامر چیمہ کے لیئے شہید کا لفظ استعمال کررہے ہیں۔ اخبارات کے کالم ان کےلیے تعریفی کلمات پر مبنی بیانات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اخباری بیانات میں جرمنی کی پولیس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا گیا کہ عامر چیمہ نے خود کشی کی بلکہ الزام لگایا جارہا ہے کہ انہیں پولیس نے تشدد سے ہلاک کیا۔
قومی اسمبلی میں بھی عامر چیمہ کی پولیس کی حراست میں ہلاکت پر حکومت اور حزب مخالف دونوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا اور اس پر بحث کے لیئے ایک تحریک التوا بھی منظور کی گئی۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ جرمن پولیس کی جانب سے عامر چیمہ کی شہادت کو خود کشی کہنا توہین ہے۔ قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ نے توہین رسالت پر احتجاج کر کے پیغمبر اسلام حضرت محمد سے اپنے عشق کا ثبوت دیا اور ان کے بقول ایسا عاشق کبھی خود کشی نہیں کرسکتا۔ عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ کا بھی بیان شائع ہوا ہے کہ ان کا بیٹا عاشق رسول تھا اور وہ خود کشی نہیں کرسکتا۔ ان کے بہنوئی رب نواز بھون کا بھی ایک ایسا ہی بیان شائع ہوا ہے۔ متنازعہ کارٹون شائع کرنے پر مدیر کو عامر چیمہ کی دھمکیاں دینے اور مدیر پر مبینہ حملے کو پاکستان میں ایک قابل تعریف قدم قرار دیا جارہا ہے۔ زیر حراست مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق کا بیان شائع ہوا ہے کہ عامر چیمہ غازی علم دین شہید کے نقش قدم پر چل کر امر ہوگئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مطالبہ کیا ہے کہ عامر چیمہ کی میت کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے۔ اخبارات ان کی ہلاکت کو شہادت لکھ رہے ہیں۔ مثلاً پیر کے نوائے وقت میں صفحہ اول پر تین کالمی سرخی ہے ’عامر چیمہ کی شہادت کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے، دینی و سیاسی جماعتوں کا جنازے میں بھرپور شرکت کا اعلان۔‘ نوائےوقت کی اتوار کی اشاعت میں عرفان صدیقی کا کالم شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ’عامر جو امر ہوگیا۔‘ یہ عنوان عامر چیمہ کے بارے میں ملک بھر میں بننے والی رائے عامہ کی عکاسی کرتا ہے۔ |
اسی بارے میں گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||