گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت اور حزب مخالف نے جرمنی کی جیل میں پاکستانی طالبعلم کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اس بارے میں جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں بحث کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جرمنی میں پاکستانی حکام کے مطابق کارٹون تنازعہ کے سلسلے میں گرفتار کیئے گئے ایک پاکستانی طالب علم عامر عبدالرحٰمن چیمہ برلن جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق عامر چیمہ نامی اس طالب علم نے برلن کی جیل میں منگل کی رات پھندا لگا کر خودکشی کر لی جبکہ عامر چیمہ کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ حراست میں ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ عامر کے والد پروفیسر نذیر احمد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا خود کشی نہیں کر سکتا اور وہ یقین سے کہتے ہیں کہ انہیں تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ہوگا۔ عامر چیمہ کو ڈنمارک کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کے چھپنے سے پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے ایک جرمن اخبار کے ایڈیٹر کو اس سلسلے میں دھمکی دی تھی۔ عامر چیمہ کی ہلاکت کے سلسلے میں اسمبلی میں حزب مخالف کی جانب سے بختیار مانی، سمیعہ راحیل قاضی اور عنایت بیگم نے تین ایک جیسی التویٰ کی تحاریک پیش کیں اور کہا کہ عامر چیمہ کی جرمن پولیس کی حراست میں ہلاکت خود کشی نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستانی شہری کے حراست میں موت کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس پر بحث کی جائے جس پر مملکتی وزیر برائے پارلیمانی امور کامل علی آغا نے کہا کہ حکومت کے جذبات بھی اس معاملے پر حزب مخالف سے مختلف نہیں اور انہیں بحث پر کوئی اعتراض نہیں۔ بعد میں سمیعہ راحیل قاضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عامر عبدالرحمٰن چیمہ راولپنڈی کے ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اپنی تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ ان کے مطابق وہ ایک ریٹائرڈ اور ضعیف العمر پروفیسر نذیر احمد کے بیٹے ہیں اور جرمنی میں ٹیکسٹائیل انجنیئرنگ کی تعلیم کے لیے گئے تھے۔ عامر چیمہ کی تعلیم مکمل ہونے میں صرف دو ماہ باقی تھے کہ انہیں گرفتار کیا گیا۔ سمیعہ قاضی نے مطالبہ کیا کہ عامر چیمہ کا پوسٹ مارٹم کرکے فوری طور پر ان کی لاش احترام کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جائے۔ پاکستانی طالبعلم کی جرمنی کی ایک جیل میں ہلاکت کے بارے میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کوئی سخت رد عمل تو ظاہر نہیں کیا لیکن انہوں نے بتایا کہ جرمنی کی حکومت اور پولیس سے رابطہ کیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ تحقیقات کرکے پاکستان کو بتائیں کہ اصل حقائق کیا ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تاحال اسلام آباد میں جرمنی کے سفارتخانے کے کسی اہلکار کو طلب نہیں کیا گیا اور جرمن حکومت سے ایک دو روز میں جواب ملنے پر ہی حکومت مزید کچھ کہہ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جرمنی میں زیر حراست افراد کو رسی یا دیگر اشیاء رکھنے کی سہولت نہیں ہوتی کہ کوئی خود کشی کر سکے لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں جرمن حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عامر عبد الرحمٰن چیمہ کی ہلاکت کے معاملے پر جرمنی میں قائم پاکستانی سفارتخانہ جرمن حکومت سے رابطے میں ہے اور ان کی میت پاکستان لانے کے انتظامات بھی سفارتخانہ کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان کارٹون اور اظہارِ رائے کی آزادی11 February, 2006 | قلم اور کالم پاکستان میں کارٹون احتجاج جاری24 February, 2006 | پاکستان کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج 08 February, 2006 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||