عامر چیمہ، پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جرمنی کے سفیر کا کہنا ہے کہ برلِن کی جیل میں انتقال کرنے والے طالب علم عامر چیمہ کی لاش کی پوسٹ مورٹم رپورٹ سے واضح ہے کہ ان پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا تھا۔ جمعہ کی شام اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں جرمن سفیر ڈاکٹر گُنٹر مولیک نے اخباری کانفرنس کی اور ابتدائی رپورٹ کے بارے میں میڈیا کو بتایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی رپورٹ کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا اور پوسٹ مارٹم رپپورٹ کی تفصیلات کو عامر چیمہ کی تدفین کے بعد جاری کیا جائے گا۔ پوسٹ مارٹم کی تفتیش میں شامل ہونے کے لیے پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے بھی دو اہلکار برلن گئے تھے۔ جرمن سفیر نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے مکمل ہو جانے کے بعد حکام نے عامر چیمہ کی لاش کو پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق عامر چیمہ کی لاش کو سنیچر کے روز پاکستان لایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں جرمنی کے سفیر نے کہا کہ عامر چیمہ کو جس قید خانے میں رکھا گیا تھا وہاں سویلنس کیمرے ہ نہیں لگے تھے کیونکہ وہاں سزایافتہ مجرموں کو نہیں بلکہ مقمدے کے منتظر ملزموں کو رکھا جاتا ہے۔ سفیر نے طالب علم کی موت پر جرمن حکومت کی طرف سے افسوس کا اظہار کیا۔ عامر چیمہ پر الزام تھا کہ انہوں یورپ میں متنازع کارٹون کی اشاعت کے بعد ایک جرمن اخبار کے ایڈیٹر کو دھمکی دی تھی اور ان کو قتل کرنے کےمقصد سے ان کے دفتر گئے تھے۔ اس کیس کی سماعت کے ہونے سے پہلے ہی 3 مئی کو عامر چیمہ برلن کی جیل میں مردہ پائے گئے ۔ |
اسی بارے میں گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||