ڈھوک کشمیریاں کا عامر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کشمیریاں کی حکیم ترلائی والا سٹریٹ میں داخل ہوتے ہی آپ کو جگہ جگہ بینر اور دیواروں پر چسپاں ہاتھ سے بنے پوسٹر لگے نظر آتے ہیں جو اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ اس محلے کا ایک سابقہ رہائشی آج کل مذہبی جماعتوں کی سیاست اور گہری پذیرائی کا مرکز ہے۔ انتیس سالہ عامر چیمہ جو اب غازی عامر چیمہ شہید رحمت اللہ علیہ کے نام سے ڈھوک کشمیریاں میں جانا جاتا ہے گزشتہ ہفتے جرمنی کی ایک جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ عامر چیمہ کو گزشتہ برس جرمنی کے ایک اخبار ڈائی ویلٹ کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عامر چیمہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عامر نے پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز خاکے چھاپنے کے بعد جرمن اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کیا اور بعد میں اس بات اعتراف بھی کیا۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ جرمن حکام نے ان کے بیٹے کو تشدد کے بعد قتل کیا جبکہ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ نے خودکشی کی۔ بدھ کو حکیم ترلائی والا سٹریٹ میں عامر چیمہ کا جسد خاکی جرمنی سے آنا تھا مگر پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے حکام پر مشتمل ایک ٹیم پیر کو جرمنی روانہ ہوئی ہے جو اس واقعے کی تحقیقات کرے گی جس کے باعث ان کا جسد خاکی امکانی طور پر اگلے ہفتے پاکستان پہنچے گا۔ پاکستان کی مذہبی جماعتیں جو گذشتہ چھ ماہ سے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرے کر رہی تھیں اپنے احتجاج کو عامر چیمہ کی موت سے پھر زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر محلے داروں کا ہجوم تو ہے ہی ساتھ ہی دینی جماعتوں کے کارکن بھی موجود ہیں۔
عامر چیمہ کے والد پروفیسر نذیر چیمہ سے ملاقات کرنے والوں میں اب تک متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد اور وفاقی وزیر شیخ رشید بھی شامل ہیں۔ عامر چیمہ کے گھر کے باہر دو افراد ایک کتابچہ اور ایک اخبار بھی بیچ رہے ہیں جن کی قیمت بالترتیب دس اور سات روپے ہے۔ اس کتابچے کو مکتبہ الشہداء نے شائع کیا ہے جس میں عامر چیمہ کے حالات زندگی اور ان کے اہل خانہ کے انٹرویو شامل ہیں۔ جبکہ القلم نامی اخبار نے بھی عامر چیمہ پر خصوصی ضمیمہ شائع کیا ہے جس میں جلی حروف پر درج ہے’عامر بھائی شادی مبارک‘۔ عامر چیمہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ خودکشی نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو آدمی ناموس رسالت کے لیے کسی پر قاتلانہ حملہ کر سکتا ہے وہ پیغمبر اسلام کی اس حدیث کی نفی نہیں کر سکتا کہ خودکشی حرام ہے۔ عامر چیمہ کے بارے میں لگے بینر پر الرحمت ٹرسٹ کا نام واضح طور پر نظر آتا ہے جو کہ کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد کا ذیلی فلاحی ادارہ ہے۔ تاہم عامر چیمہ کے والد نے الرحمت ٹرسٹ سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا انہیں نہیں پتہ کہ الرحمت ٹرسٹ والے کون لوگ ہیں۔ ڈھوک کشمیریاں کے اس محلے میں بچے سے لے کر بزرگ تک کی زبان پر عامر چیمہ کا ہی نام ہےاور اس کا گھر اس وقت اس علاقے میں توجہ کا مرکز ہے۔ | اسی بارے میں عامر چیمہ: پاکستان کا ’نیا ہیرو‘08 May, 2006 | پاکستان گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||