عامر چیمہ کی میت لاہور پہنچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں پولیس کے زیر حراست ہلاک ہونے والے پاکستانی طالب علم عامر چیمہ کی میت سنیچر کی صبح لاہور پہنچ گئی جہاں سے اسے سرکاری ہیلی کاپٹر میں ان کے آبائی گاؤں لے جایا جا رہا ہے۔ عامر چیمہ کے چچہ عصمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عامر چیمہ کی میت کو گوجرانوالہ کے پاس گاؤں ساروکی پہنچانے کی ذمہ داری حکومت نے لی ہے اور حکومت نے عامر چیمہ کے تمام اہل خانہ کو ان کے گاؤں پہنچانے کے لیے سہولیات فراہم کی ہیں۔ جب عصمت اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پولیس کی تحویل میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ پولیس ان کی مدد کررہی ہے۔ گزشتہ روز عامر چیمہ کی بہن نے چیچہ وطنی میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کا خاندان عامر چیمہ کو راولپنڈی میں دفن کرنا چاہتا تھا لیکن حکومت مجبور کررہی ہے کہ انہیں ان کے گاؤں میں دفن کیا جائے۔ عامر چیمہ کے چچا عصمت اللہ نے پہلے بھی کہا تھا کہ میت کے موصول ہوتے ہی جلد سے جلد جنازہ پڑھا کر اس کی تدفین کردی جائے گی کیونکہ اسلام کا یہی حکم ہے۔ عامر چیمہ کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد سمیت متعدد مذہبی جماعتوں کے علماء ساروکی جائیں گے۔ گزشتہ روز پاکستان میں متعین جرمنی کے سفیر ڈاکٹر گنٹر مولیک نے کہا تھا کہ عامر چیمہ کی موت کے بعد ہونے والی اعلی سطحی تحقیقات میں ان پر تشدد کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ پاکستان کے انصار برنی ٹرسٹ کے چئیرمین انصار برنی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ عامر چیمہ نے جیل میں خود کشی کی اور انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹرسٹ کے دو ارکان نے برلن میں عامر کی ہلاکت کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقییقات کی ہیں۔ تاہم ملک میں مذہبی جماعتیں عامر چیمہ کی خودکشی کو تسلیم نہیں کررہیں اور انہیں شہید قرار دیا جارہا ہے۔ جمعہ کو لاہور میں جمعیت اہل حدیث اور مجلس عمل نے عامر چیمہ کی ہلاکت پر احتجاجی جلوس نکالے۔ |
اسی بارے میں عامر چیمہ، پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی13 May, 2006 | پاکستان گرفتار پاکستانی کی ہلاکت کی مذمت05 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||