BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 March, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آزاد عدلیہ، بینظیر کردار ادا کریں‘

آزاد عدلیہ کا قیام میثاق جمہوریت کا بنیادی نقطہ ہے : چودھری نثار
پاکستان مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو سے اپیل کی ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کے لیے کی جانے والی حالیہ جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔

منگل کو مسلم لیگ ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ( ن ) کے مرکزی رہنما چودھری نثار علی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد عدلیہ کے لیے جدوجہد کراچی میں اجلاس بلانے یا لاہور میں انتخابی مہم چلانے سے نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ اپیل اس لیے کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے معطلی پر حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے میں پیپلز پارٹی کے صرف مقامی رہنماؤں نے اجلاسوں اور سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی جلوس میں علامتی طور پر حصہ لیا ہے جبکہ پارٹی کی مرکزی قیادت اس موقع پر غائب رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اس عمل سے نہ صرف اپوزیشن کی جماعتوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئی ہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے اپنے رہنماء اور کارکن بھی کنفیوز ہیں۔

انہوں نے اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے دستخط شدہ میثاق جمہوریت کا ذکر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں عہد کیا گیا تھا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔

چودھری نثار نے کہا: ’ آزاد عدلیہ کا قیام میثاقِ جمہوریت کا بنیادی نقطہ ہے لہذا اس اہم موقع پر پیپلز پارٹی وکلاء اور پاکستانی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ لڑے‘۔

بینظیر بھٹو اور نواز شریف لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کر چکے ہیں

نیوز کانفرنس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں چودھری اعتزاز حسن، رکن قومی اسمبلی زمرد حسین اور سنیٹر لطیف کھوسہ کے کردار کی تعریف کی۔

مسلم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لندن میں بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تاریخ میں رد و بدل ہوسکتا ہے کیونکہ لیگی قیادت کو اس بات کا احساس ہے کہ ایسا نہ ہو کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی رہنماؤں کی عدم موجودگی میں عدالتی بحران سے متعلق ہونے والی اس جہدوجہد کا زور ٹوٹ جائے۔

چودھری نثار نے حکومت کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو میڈیا ایڈوائس جاری کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ میڈیا نے حالیہ عدالتی بحران میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کی یہ دلیل رد کردی کہ میڈیا ایڈوائس سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری ہوئی ہے اور حکومت اس کو لاگو کرنے کی پابند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر احکامات کو بھی ایسے ہی مان لے جیسے میڈیا سے متعلق حکم پر عملدر آمد کرانے پرخود کو مجبور پا رہی ہے۔

چودھری نثار نے کہا: ’سپریم جوڈیشل کونسل نے تویہ حکم بھی دیا ہے کہ جسٹس افتخار چودھری ہی چیف جسٹس ہیں۔ ان کو آزاد شہری کے طور پر آزاد انہ گھونے پھرنے کی اجازت ہو۔ ان کا پروٹوکول بحال کیا جائے، لہذا حکومت یہ احکامات بھی مان لے‘۔

حالیہ دنوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اے آر ڈی میں شامل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن) کے درمیان کسی بھی مسئلے پر اس قسم کے خدشات واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔

چودھری نثار نے ایک سوال کے جواب میں اس تاثر کی نفی کی کہ ان کی یہ پریس کانفرنس اے آر ڈی کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد