BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 04:54 GMT 09:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات
وکلاء کا احتجاج
وزیر اطلاعات کا کہنا کہنا ہے کہ انہوں (چیف جسٹس) نے کوئی خطاب تو فرمانا نہیں تھا، اس لیے ان سے ملاقاتیں نہیں ہوئیں
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ذرائع ابلاغ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں ریفرنس کے حوالے سے رپورٹنگ اور تبصرے نہ کرنے کی ’ایڈوائس‘ جاری کی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے بی بی سی اردو کی عنبر خیری سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حکومت کے خوش یا ناخوش ہونے کی بات نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بعض رپورٹیں ایسی تھیں جن سے عدالت کے وقار کا سوال پیدا ہوتا تھا۔تو اس پر ضرور تشویش تھی اور سپریم جوڈیشل کونسل نے اس کا نوٹس بھی لیا اور اس کے بارے میں میڈیا (ذرائع ابلاغ) کو ایڈوائس بھی جاری کی کہ ایسی رپورٹنگ نہ کریں جس سے عدلیہ کے زیر سماعت کیس پر اثر پڑے‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ وکلا، سیاستدانوں اور صحافیوں کو بھی معطل چیف جسٹس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ:

رپورٹروں کا کام یہ نہیں
 رپورٹروں کا کام یہ نہیں بنتا کہ وہ ان کے (چیف جسٹس) کے گھر میں گھسیں اور ان سے کسی سیاسی بیان کی ڈیمانڈ کریں

’جہاں تک وکلا، صحافیوں اور سیاستدانوں کا تعلق ہے تو جانے والے یہ بھول گئے تھے کہ وہ جج کے گھر جا رہے ہیں یا کسی سیاستداں کے۔ وہ ایک جج کا گھر ہے اور وہ اس سے ملیں گے جس سے وہ ملنا چاہیں گے‘۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا ’انہوں (چیف جسٹس) نے کوئی خطاب تو فرمانا نہیں تھا، اس لیے ان سے ملاقاتیں نہیں ہوئیں‘۔

انہوں نے کہا کہ چند وکلا اور سیاستداں کی طرف سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور وکلا بھی جو جنہیں سیاستدانوں نے اکسایا ہے۔ ورنہ تو یہ عدلیہ کے زیر غور ایک جج کا معاملہ ہے جس کی سماعت پانچ جج کر رہے ہیں۔

محمد علی درانی کا کہنا تھا ’اس میں یہ وکلا اور سیاستداں کیا کریں گےاور انہیں کیا حق ہے اس میں مداخلت کرنے کا؟‘۔

انہوں نے کہا کہ جہاس تک رپورٹروں کا مسئلہ ہے ’رپورٹروں کا کام یہ نہیں بنتا کہ وہ ان کے (چیف جسٹس) کے گھر میں گھسیں اور ان سے کسی سیاسی بیان کی ڈیمانڈ کریں‘۔ وہ جوڈیشل کونسل کے سامنے آئیں گے اور اپنا موقف ان کے سامنے رکھیں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد