افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے جو الزامات حکومت کے پاس تھے، کیا وہ اتنے سنگین اقدام کے لیے کافی تھے؟ اس کا فیصلہ تو سپریم جوڈیشل کونسل ہی کر سکے گی، لیکن سرکاری، اور سرکار کے زیر اثر میڈیا سے مسلسل اس طرح کی معلومات مل رہی ہیں جن کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری ’بدعنوان، نااہل، اور غیر ذمہ دار‘ قانون دان تھے۔ لیکن کیا اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے؟ آج معطل ہونے والے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس افتخار چوہدری نےجون سن دو ہزار پانچ میں اس عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ ڈیڑھ سال کے اس مختصر عرصے میں جسٹس چوہدری نے کئی اہم کیس نمٹائے جن میں سے کچھ حکومت اور اس کے سینیئر اہلکاروں کے لیے خفت کا باعث بنے، اور کچھ اب بھی مسلسل شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا مقدمہ کراچی سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف دائر کی گئی درخواست تھی۔ اس مقدمے کا فیصلہ اپنے خلاف ہونے کے بعد بھی حکومت اپنی معصومیت پر اصرار کرتی رہی ہے لیکن اسے نجکاری کا عمل روکنا پڑا۔ نجی زمین پر ریٹائرڈ فوجیوں اور فوجی اداروں کے قبضے سے متعلق کئی مقدموں میں جسٹس افتخار چوہدری نے نہ صرف فوج کے خلاف فیصلے دیے بلکہ ناجائز قبضوں کو ادارتی تحفظ فراہم کرنے پر فوج کی سرزنش بھی کی۔ گواہوں کے کٹہرے میں کھڑے پولیس افسران کی ڈانٹ ڈپٹ تو ان کا معمول تھا۔ خصوصاً پنجاب میں بڑھتے ہوئے جرائم پر انہوں نے صوبے کی پولیس کو الٹی میٹم بھی دیے۔
معطل کیے جانے سے پہلے، جسے حکومت غیر فعال کرنا کہہ رہی ہے، جسٹس افتخار چوہدری کے آخری چند فیصلوں میں سے ایک ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے اس مقدمے کو داخل کرنا تھا جس میں حکومت پر الزام لگایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک سو اڑتالیس گمشدہ لوگ دراصل سرکاری ایجنسیوں کی غیر قانونی حراست میں ہیں۔ جبری گمشدگیوں ہی کے معاملے میں دیگر مقدمات بھی جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت میں موجود ہیں جن میں انہوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی تھی اور بار بار اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ گمشدہ لوگوں کے بارے میں بتائیں۔ حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملنے پر انہوں نے بھری عدالت میں سرکاری وکیلوں کی سرزنش بھی کی۔ کل یعنی جمعرات کو ہونے والی عدالتی کارروائی میں اٹارنی جنرل حاضر نہیں ہوئے تھے جس پر جسٹس افتخار چوہدری نے مقدمے کو چھبیس مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کو طلب کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر ملک میں کہیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو عدالت خود اس کا نوٹس لے کر کیس شروع کر سکتی ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری سوؤ موٹو نوٹس لینے کے حوالے سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر عام اور کمزور لوگوں پر ہونے والی زیادتی کا از خود نوٹس لیا اور فوری فیصلے کر کے کم از کم کسی حد تک ریلیف پہنچایا۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ معروف کیس سن دو ہزار پانچ میں پتنگ بازی پر پابندی لگانے کا ہے۔ اس پابندی کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب نے پچھلے ماہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بسنت کے موقعہ پر دو روز کے لیے یہ پابندی اٹھائی تو جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’اس تہوار پر جو ہلاکتیں ہوں گی ان کی ذمہ داری بھی پنجاب حکومت کو لینا ہو گی۔‘ اس بسنت پر صرف لاہور میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ حکومتی اداروں کے علاوہ وکلاء اور ججوں میں بھی ان کے حامی کم اور ناقد زیادہ تھے۔ لیکن دونوں طرف کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو بہت تندہی سے چلایا، زیادہ سے زیادہ بنچ بنائے، ان سے دن بھر کام کروایا اور خود بھی کیا، اور پہلے کے مقابلے میں مقدموں کے بوجھ (کیس لوڈ) میں خاطر خواہ کمی کی۔ اپنی عمر اور مدت ملازمت کے حساب سے وہ سن دو ہزار گیارہ تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہ سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ کے ’دہرے معیار‘پر فکر18 December, 2006 | پاکستان سٹیل مل: ازسرِنو نجکاری منظور02 August, 2006 | پاکستان ہلاکتوں کے بعد بسنت پر پابندی01 March, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان ’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘09 March, 2007 | پاکستان افتخار محمد چودھری: ایک خاکہ09 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان معطل09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||