BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 March, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں کے بعد بسنت پر پابندی

بسنت گرفتاریاں: فائل فوٹو
بسنت کے دوران قانون کی خلاف ورزی کرنے پر چھ سو افراد کو گرفتار کیا گیا
پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں بسنت پر مستقل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پابندی اس جانی نقصان کے بعد لگائی گئی ہے جو لاہور میں بسنت کے موقع پر دو روزہ پتنگ بازی کے دوران ہوا۔ صوبائی حکومت نے دوسرے شہروں میں بسنت منانے یا پتنگ بازی کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

حکومت نے ان درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا ہے جن میں بسنت کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں اگرچہ ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں، لیکن سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ پتنگ بازی سے متعلقہ حادثات میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کو لاہور میں وزیر اعلیٰ نے اپنے دفتر میں پتنگ بازی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو بلایا اور ان میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کیے۔

اس موقع پر وزیر اعلی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں بسنت کے موقع پر صرف دو روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دی گئی تھی لیکن بعض افراد نے اس موقع کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں ہوائی فائرنگ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بسنت کے دوران قانون کی خلاف ورزی کرنے پر چھ سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ہلاکتوں کی ذمہ دار حکومت
 ہلاکتوں کے بعد لاہور، گوجرانوالہ اور روالپنڈی میں پتنگ بازی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے اور مظاہرین نے حکومت کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا

حکومت پنجاب نے دو روز کی اجازت کےدوران پتنگ بازی کے چند قواعد بنا کر انہیں قانونی شکل دی تھی۔ بسنت مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ حادثات کی شرح سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ حکومت ان قوانین پر عملدرامد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

ان ہلاکتوں کے بعد لاہور، گوجرانوالہ اور روالپنڈی میں پتنگ بازی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے اور مظاہرین نے حکومت کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اب پورے صوبے میں کسی جگہ بھی بسنت منانے کی اجازت نہیں ہے اور صوبے میں تفریحی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے حکومت ہارس اینڈ کیٹل شو منعقد کروانے پر غور کر رہی ہے۔

وزیر اعلی ٰ نے ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کے اہلخانہ کو حکومت کی طرف سے ایک سے تین لاکھ روپے کے چیک دیئے اور تین متاثرین کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے شہروں میں بھی پتنگ بازی میں ہلاک ہونے والوں کے کوائف اکٹھے کیے جارہے ہیں اور تصدیق کے بعد انہیں بھی امدادی رقوم کے چیک دیئے جائیں گے۔

ادھر پنجاب اسمبلی میں جب قتل ہونے والی صوبائی وزیر ظل ہماء کے لیے دعائے مغفرت کی جانے لگی تو دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ارشد بگو نے مطالبہ کیا کہ بسنت کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے بھی دعائے مغفرت کی جائے۔ انہوں نے ہلاک شدگان کے لیے شہداء کا لفظ استعمال کیا۔

سپیکر نے یہ کہہ کر صورتحال پر قابو پایا کہ یہ دعا صوبائی وزیر ظل ہماء، ایک رکن اسمبلی کی رشتہ دار اور انتقال کر جانے والے تمام مسلمانوں کی مغفرت کے لیے کی جا رہی گی۔

اسی بارے میں
لاہور میں بسنت نائٹ کا آغاز
24 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد