لاہور میں بسنت نائٹ کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر لاہور میں بسنت نائٹ کا آغاز ہوچکا ہے البتہ اس بار یہ بسنت کچھ نئے قواعد و ضوابط میں جکڑی ہے اور اس کے رنگ کچھ پھیکے پھیکے ہیں۔ اندرون شہر اور بعض دوسرے علاقوں میں لوگ چھتوں پر چڑھ چکے ہیں جہاں پتنگ بازی کے ساتھ کھانے پینے کا سامان ہے اور اونچی آواز میں گانے چل رہے ہیں البتہ آسمان پر پتنگیں بہت ہی کم دکھائی دے رہی ہیں۔ان کی وجہ سخت قواعد وضوابط ہیں۔ ان قواعد کی مقامی اخبارات ریڈیو اور کیبل ٹی وی چینلز پر بھرپور تشہیر بھی کی جا رہی ہے۔ ان اشتہارات میں کہا جارہا ہے کہ ایک خاص سائز سے بڑی پتنگ اور خاص معیار سے بڑھ کر ڈور یعنی مانجھا لگا دھاگہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ تندی اور کیمیکل اور لوہے کی تار سے پتنگ بازی بھی جرم قرار دی گئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس قانون کی خلاف روزی کرنے والے کوگرفتار کروانے والے شہری کو پانچ ہزار کا انعام دیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں اس لیے لگائی گئی ہیں کہ ماضی میں ہر برس بسنت پر کئی درجن افراد تیز ڈور سے گلا کٹنے، فائرنگ یا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو جاتے رہے ہیں۔
بسنت ایک ایسا تہوار تھا جسے بچے بڑے غریب امیر سب منایا کرتے تھے امیر لوگ مہنگی پتینگیں اور ڈور خرید کر، ان سے کم تر استطاعت رکھنے والے سستی پتنگیں خرید کر اور بعض غریب تو کٹی پتنگیں لوٹ کر بسنت منا لیتے تھے۔ تاہم اس بار سب کچھ ایسا نہیں ہے اور محروم ہوا ہے تو درمیانہ اور غریب طبقہ جس کے لیے مہنگی پتنگیں خریدنے سے بڑا مسئلہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہے۔ ساندہ کے پتنگ باز افتخار احمد کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تو یونین کونسل کے ناظم کو ڈھونڈیں پھر اسے سو یا پچاس روپے کی فیس ادا کر کے اجازت نامہ لیا جائے اور بعض یونین کونسلوں میں ان اجازت ناموں پر تھانوں سے مہر لگوانا بھی ضروری ہے۔ باغبانپورہ کے محمد آفتاب کہتے ہیں انہوں نے تو یہ اجازت نامہ لے لیا ہے لیکن ہر شہری کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس غریب کا بچہ پچاس روپےمیں بسنت منا لیا کرتا تھا وہ سو روپے کا اجازت نامہ کہاں سے بنوائے گا؟
ان کا کہنا ہے کہ اس اجازت نامے نے بسنت کو ان گھرانوں تک محدود کر دیا ہے جو بڑے اہتمام سے اور باقاعدہ تقریب منعقد کر کے بسنت منانا چاہتے ہیں۔ تمام تر پابندیوں کے باوجود اندرون موچی دروازہ میں پتنگو ں کی فروخت میں ہفتے کی رات اچانک حیرت انگیز تیزی آئی ہے۔ موچی دروازے کے دکاندار محمد ریاض نے کہا ’سر جی، پچھلے سال کی کسرنکل گئی ہے خریدار ہے کہ آتا ہی چلا جا رہا ہے‘۔ گڈی اور ڈور کی تیاری پر پابندی کی وجہ سے ان کی سپلائی پہلے ہی کم تھی اور اب طلب بڑھی ہے تو قیمتیں آسمان پر جا پہنچی ہیں۔ موچی دروازے میں موجود ایک پتنگ باز مقصود احمد نے کہا ’قیمت تین سے چار گنا ہے۔ حکومت نے چرخی پر پابندی لگائی ہے جس کی وجہ سے اب یہ بلیک میں فروخت ہورہی ہے اور ڈور کا گولہ یعنی پنے میں دھاگہ اس قدر ناقص ہے کہ اسے خریدنا بے کار ہے‘۔ بعض پتنگ باز ان پابندیوں کے باوجود خوش ہیں۔ راج گڑھ کے رحمان بٹ کہتے ہیں کہ’پچھلی بار تو بسنت نہ ہونے کے برابر تھی، اس بار کم ازکم اجازت تو ہے اور ان کے بقول تندی اور دھاتی تار نہ ہونے کی وجہ سے اصل پتنگ باز کے لیے آسانی ہوئی ہے‘۔ بہرحال لاہور کے آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں ایک بار پھر تیرتی نظر آنے لگی ہیں۔ یہ نان سٹاپ بسنت اتوار کی شام تک جاری رہے گی۔ پابندیوں نے اس تہوار کے رنگ تو پھیکے کر دیے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پتنگ بازی کو محدود کرنے والے یہ قوانین ہلاکتوں کو روک پائیں گے یا نہیں؟ | اسی بارے میں اس بار بسنت پر لاہور میں چھٹی 13 February, 2007 | پاکستان ’اموات کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے‘22 January, 2007 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی ناظم کی اجازت سے20 January, 2007 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی پر پابندی ختم04 January, 2007 | پاکستان بسنت : حکومت خون بہا ادا کرے17 March, 2006 | پاکستان بسنت پر ویڈیو رپورٹ13 March, 2006 | پاکستان بسنت : لاہور سے پانچ سوگرفتار12 March, 2006 | پاکستان پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||