اس بار بسنت پر لاہور میں چھٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی حکومت نے چوبیس فروری کو بسنت منانے کے لیے لاہور میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ایسا ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے لاہور کی ضلعی حکومت نے چوبیس اور پچیس فروری کو پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا جس پر سپریم کورٹ کے حکم اور امتناع پتنگ بازی آرڈیننس کے تحت پابندی عائد ہے۔ لاہور کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) میاں اعجاز نے منگل کو یہ بھی کہا کہ تیرہ فروری سے پتنگ اور ڈور کی تیاری پر لگائی گئی پابندی پچیس فروری تک اٹھا لی گئی ہے۔ ڈی سی او لاہور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بسنت لاہور کی پہچان ہے اور یہ بین الاقوامی تقریب بن گئی ہے۔ پنجاب کی حکومت کے بیان کے مطابق بسنت کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو مفت انٹینا تقسیم کیے جائیں گے۔
اب تک پتنگ کی ڈور سے ہلاک ہونے والے سینکڑوں لوگوں میں زیادہ تر موٹر سائیکل سوار اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کم سن بچے پتنگ کی تیز دھار دوڑ کا نشانہ بنے ہیں۔ گزشتہ ماہ بیس جنوری کو صوبائی حکومت نے پتنگ کی ڈور سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے پتنگ بازی پر مختلف شرائط عائد کرتے ہوئے امتناع پتنگ بازی کا ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت ضلعی ناظم کو موسم بہار میں دو ہفتوں کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیار دیا گیا تھا اور یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ پتنگ باز یونین کونسل کے ناظم کی اجازت اور پولیس کو اطلاع دینے کے بعد اپنی عمارت پر پتنگ بازی کرسکیں گا۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ تاہم اس اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت عالیہ لاہور نے اس پر حکومت سے جواب طلب کیا ہوا ہے اور معاملہ زیر التواء ہے۔ دوسری طرف پتنگ بازی سے ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد سپریم کورٹ بھی ڈیڑھ سال پہلے اس کا از خود نوٹس لیا تھا اور اب بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے بائیس سے تئیس فروری تک لاہور میں جشن بہاراں منانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے دوران میں شہر میں تفریحی پروگرام پیش کیے جائیں گے اور شہر کو سجایا جائے گا۔ چند دن قبل اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کھیل تماشے (پتنگ بازی) کے لیے طریقہ کار وضع کرے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے لیکن عدالت عظمیٰ کے حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ منگل کو پنجاب کی حکومت نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ چوبیس اور پچیس فروری کے علاوہ پتنگ بازی پر پابندی عائد رہے گی۔ ڈور، چرخی اور پتنگ بنانے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ وہ ان اشیاء کی تیاری قانون کے خلاف نہ کرسکیں۔ |
اسی بارے میں پتنگ بازی کی مشروط اجازت10 February, 2006 | پاکستان پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی09 March, 2006 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی پر جواب طلب 07 February, 2007 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی پر پابندی ختم04 January, 2007 | پاکستان پتنگ بازی: عدالت کا ازخود نوٹس 05 January, 2007 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی ناظم کی اجازت سے20 January, 2007 | پاکستان پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟09 March, 2006 | پاکستان پتنگ بازی کا قانون ادھورا ہے: عدالت02 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||