BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 February, 2007, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اس بار بسنت پر لاہور میں چھٹی

فائل فوٹو
ڈی سی او لاہور کے مطابق بسنت لاہور کی پہچان ہے (فائل فوٹو)
پنجاب کی حکومت نے چوبیس فروری کو بسنت منانے کے لیے لاہور میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ایسا ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

اس سے پہلے لاہور کی ضلعی حکومت نے چوبیس اور پچیس فروری کو پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا جس پر سپریم کورٹ کے حکم اور امتناع پتنگ بازی آرڈیننس کے تحت پابندی عائد ہے۔

لاہور کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) میاں اعجاز نے منگل کو یہ بھی کہا کہ تیرہ فروری سے پتنگ اور ڈور کی تیاری پر لگائی گئی پابندی پچیس فروری تک اٹھا لی گئی ہے۔ ڈی سی او لاہور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بسنت لاہور کی پہچان ہے اور یہ بین الاقوامی تقریب بن گئی ہے۔

پنجاب کی حکومت کے بیان کے مطابق بسنت کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو مفت انٹینا تقسیم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے 22 سے 23 فروری تک لاہور میں جشن بہاراں منانے کا اعلان بھی کیا ہے

اب تک پتنگ کی ڈور سے ہلاک ہونے والے سینکڑوں لوگوں میں زیادہ تر موٹر سائیکل سوار اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کم سن بچے پتنگ کی تیز دھار دوڑ کا نشانہ بنے ہیں۔

گزشتہ ماہ بیس جنوری کو صوبائی حکومت نے پتنگ کی ڈور سے ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے پتنگ بازی پر مختلف شرائط عائد کرتے ہوئے امتناع پتنگ بازی کا ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا۔

اس آرڈیننس کے تحت ضلعی ناظم کو موسم بہار میں دو ہفتوں کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیار دیا گیا تھا اور یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ پتنگ باز یونین کونسل کے ناظم کی اجازت اور پولیس کو اطلاع دینے کے بعد اپنی عمارت پر پتنگ بازی کرسکیں گا۔

اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ تاہم اس اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت عالیہ لاہور نے اس پر حکومت سے جواب طلب کیا ہوا ہے اور معاملہ زیر التواء ہے۔

دوسری طرف پتنگ بازی سے ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد سپریم کورٹ بھی ڈیڑھ سال پہلے اس کا از خود نوٹس لیا تھا اور اب بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

پتنگ بازی پر پابندی
 چوبیس اور پچیس فروری کے علاوہ پتنگ بازی پر پابندی عائد رہے گی۔ ڈور، چرخی اور پتنگ بنانے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ وہ ان اشیا کی تیاری قانون کے خلاف نہ کرسکیں
حکومتِ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے بائیس سے تئیس فروری تک لاہور میں جشن بہاراں منانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے دوران میں شہر میں تفریحی پروگرام پیش کیے جائیں گے اور شہر کو سجایا جائے گا۔

چند دن قبل اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کھیل تماشے (پتنگ بازی) کے لیے طریقہ کار وضع کرے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے لیکن عدالت عظمیٰ کے حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

منگل کو پنجاب کی حکومت نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ چوبیس اور پچیس فروری کے علاوہ پتنگ بازی پر پابندی عائد رہے گی۔ ڈور، چرخی اور پتنگ بنانے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ وہ ان اشیاء کی تیاری قانون کے خلاف نہ کرسکیں۔

پتنگزندگی بو کاٹا
بسنت قریب آرہی ہے اور ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں
اسی بارے میں
پتنگ بازی کی مشروط اجازت
10 February, 2006 | پاکستان
پنجاب: پتنگ بازی پر جواب طلب
07 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد