BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: پتنگ بازی پر جواب طلب

پتنگ بازی (فائل فوٹو)
حکومت نے چوبیس اور پچیس فروری کو پتنگ بازی کی اجازت دی ہے
لاہور ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر پنجاب حکومت سے پتنگ بازی پر ترمیمی آرڈیننس جاری کرنے پر جواب طلب کر لیا ہے۔

درخواست گزار نے حال ہی میں پنجاب حکومت کی طرف سے پتنگ بازی کی مشروط اجازت دینے کے لیے جاری کیے گئے آرڈیننس کی قانونی حیثیت کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار محمد اظہر نے استدعا کی تھی کہ پتنگ بازی پر گورنر پنجاب کا جاری کردہ ترمیمی آرڈیننس عوامی مفاد کے خلاف ہے اور آئین میں جان کے تحفظ سے متعلق دیے گئے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

بدھ کو جسٹس میاں نجم الزمان نے صوبائی حکومت کو رٹ درخواست پر تفصیلی جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔

بیس جنوری کو حکومت پنجاب نے امتناع پتنگ بازی کا ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ موسم بہار میں پندرہ روز کے لیے کوئی شخص اپنی عمارت پر یونین کونسل کے ناظم کی اجازت سے اور پولیس کو اطلاع دینے کے بعد پتنگ بازی کرسکے گا۔

دوسری طرف سپریم کورٹ آف پاکستان نے پتنگ بازی سے ہونے والی ہلاکتوں پر ڈیڑھ سال پہلے از خود نوٹس لیا تھا اور وہ گاہے گاہے اس معاملہ کی سماعت کرتی رہتی ہے۔

گزشتہ ماہ بائیس جنوری کو عدالت عظمیٰ نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ اگر اجازت کے دنوں میں پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں تو وہ اس کی ذمہ دار ہوگی۔

عدالت عظمیٰ نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ اگلی سماعت پر بتائے کہ گزشتہ سال جب اس نے پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دی تھی تو اس عرصہ میں گلے پر پتنگوں کی ڈور پھرنے سے کتنی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

سپریم کورٹ نے پتنگ بازی کے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کی ہوئی ہے۔ تاہم پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پتنگ بازی کی اجازت صرف دو دنوں یعنی چوبیس اور پچیس فروری کو دی گئی ہے۔

پنجاب میں غیرقانونی طور پر پتنگ بازی شروع ہو گئی ہے (فائل فوٹو)

صوبائی حکومت کے ترجمان کے ایک بیان کے مطابق جو شخص ان دو دنوں کے سوا کسی روز پتنگ بازی کرے گا اسے تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے۔

پنجاب حکومت نے امتناع پتنگ بازی آرڈیننس کے تحت پتنگ بازی کرنے اور اس کے کاروبار سے متعلق تفصیلی قواعد بھی جاری کردیے ہیں جن کے تحت پتنگ بازی کا کاروبار کرنے والوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ حکومت سے رجسٹریشن کروائیں۔

پتنگ بازی کا ترمیمی آرڈیننس جاری ہونے کے بعد سے لاہور اور وسطی پنجاب کے دوسرے شہروں میں غیر قانونی طور پر پتنگ بازی شروع ہوگئی ہے۔

اگلے روز لاہور میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے موٹر سائکل پر اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا ہوا اڑھائی سال کا لڑکا موسیٰ شدید زخمی ہوگیا۔

گزشتہ سوموار لاہور کے قریب کالا شاہ کاکو کے علاقہ میں ہائی وے پر ایک نو سالہ بچہ مبشر کٹی ہوئی پتنگ لوٹتے ہوئے کار سے ٹکرا کر موقع پر ہلاک ہوگیا تھا۔

پتنگزندگی بو کاٹا
بسنت قریب آرہی ہے اور ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں
پتنگ کہانیپتنگ کہانی
چینی جرنیل کی حکمت سے پتنگ بازی کا جنم
اسی بارے میں
پتنگ بازی کی مشروط اجازت
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد