پنجاب: پتنگ بازی ناظم کی اجازت سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت نے امتناع پتنگ بازی کا ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت موسم بہار میں پندرہ روز کے لیے کوئی شخص اپنی عمارت پر یونین کونسل ناظم کی اجازت اور پولیس کو اطلاع دینے کے بعد پتنگ بازی کرسکے گا۔ پتنگ کی ڈور سے لاہور میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بینچ نے پچیس اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کو پتنگ بازی، پتنگوں اور ڈور کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن گزشتہ سال موسم بہارمیں پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دے دی گئی تھی۔ سنیچر کو گورنر پنجاب لیٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے امتناع پتنگ بازی آرڈیننس کو چار ترامیم کے ساتھ نوٹیفکیشن کیا۔ نئے آرڈیننس کے مطابق کسی جگہ کا مالک متعلقہ یونین کونسل کے ناظم سے اپنی عمارت پر پتنگ بازی کی اجازت لے گا اور اس کی اطلاع متعلقہ تھانہ کو کرے گا۔ اس شق کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ نئی ترامیم کے مطابق ضلعی حکومت پتنگ بازی کے لیے کائٹ فلائینگ ایسوسی ایشن قائم کرے گی۔ ترمیمی قانون کے مطابق پتنگ سازی اور اس کی خرید و فروخت کرنے والے افراد کو ضلعی حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوگا۔ اس قانون کے تحت ضلعی ناظم کو موسم بہار میں پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیار ہوگا۔ پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت سابقہ امتناع پتنگ بازی قانون میں بھی دی گئی تھی۔ چار جنوری کو پنجاب حکومت نے چوبیس اور پچیس فروری کو پتنگ بازی کا تہوار بسنت منانے کا اعلان کیا تھا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت بسنت منانے کے لیے سپریم کورٹ سے اجازت طلب کرے گی کیونکہ عدالت عظمی نے اس پر تا حکم ثانی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ تاہم اگلے ہی دن سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی اور اس سے متعلق کاروبار کی اجازت دینے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسے عدالتی ہدایت کی خلاف وزری قرار دیا تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس جناب رانا بھگوان داس ، جسٹس سید سعید اشہد اور جسٹس حامد مرزا پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کراچی میں پنجاب حکومت کی کارروائی کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب اورایڈوکیٹ جنرل کو بائیس جنوری کو طلب کیا ہوا ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی تھی کہ پتنگ بازی کی اجازت کے دنوں میں امتناع پتنگ بازی کے آرڈیننس کے تحت قواعد بنائے لیکن یہ قواعد اب تک نہیں بنائےگئے۔ گزشتہ سال پنجاب میں پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر بچے اور موٹر سائکل پر بیٹھنے والے لوگ تھے۔ سنیچر کو وفاقی وزیر سیاحت نیلو فر بختیار نے لاہور میں کہا کہ حکومت چوبیس پچیس فروری کو بسنت منانے کے لیے کئی ملکوں کے سیاحوں کو پاکستان آمد پر ویزے جاری کرے گی۔ | اسی بارے میں پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟09 March, 2006 | پاکستان بسنت : لاہور سے پانچ سوگرفتار12 March, 2006 | پاکستان پتنگ بازی: عدالت کا ازخود نوٹس 05 January, 2007 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی پر پابندی ختم04 January, 2007 | پاکستان ڈور پھرنے سے چار سالہ بچہ ہلاک05 March, 2006 | پاکستان پتنگ کی ڈور پھرنے سے بچی ہلاک14 August, 2006 | پاکستان سرحد: پتنگ بازی ناقابل ضمانت04 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||