پتنگ کی ڈور پھرنے سے بچی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوم آزادی کے دن سوموار کو لاہور میں ایک ساڑھے تین سالہ بچی گلے پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے ہلاک ہوگئی۔ اس سال لاہور میں گلے پر ڈور پھرنے سے پچاس سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں زیادہ تر کم سن بچے ہیں جو موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے تیز ڈور گلے پر پھرنے سے ہلاک ہوئے۔ سوموار کی سہ پہر تین سالہ خدیجہ یوسف اپنے والد محمد یوسف کے ساتھ موٹر سائکل پر علامہ اقبال روڈ سے گزر رہی تھی کہ پتنگ کی ڈور اس کے گلے پر پھرنے سے اس کے گلے کی رگ کٹ گئی اور خون بہنے لگا۔ بچی کے والد اسے شالامار ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ بچی اسلامیہ پارک کی رہنے والی تھی۔ پاکستان کے سپریم کورٹ نے پتنگ بازی سے ہونے والی ہلاکتوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اس پر تاحکم ثانی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عدالت عظمیٰ میں پنجاب کے سابق گورنر شاہد حامد نے کہا تھا کہ اس سال تیرہ فروری سے پندرہ مارچ تک پتنگ بازی کے باعث اڑتالیس افراد ہلاک ہوئے۔ | اسی بارے میں پتنگ بازی کا قانون ادھورا ہے: عدالت02 February, 2006 | پاکستان پتنگ بازی کی مشروط اجازت10 February, 2006 | پاکستان چھ سالہ پتنگ باز کی رہائی کا حکم26 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||