سرحد: پتنگ بازی ناقابل ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں صوبائی اسمبلی نے منگل کو پتنگ بازی پر پابندی کے قانون کی متفقہ منظوری دے ہے۔ نئے قانون کے تحت پتنگ بازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت صوبہ بھر میں پتنگ بازی، پتنگوں اور دھات یا نائلون کی تار یا مانجھے کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہو گا۔ قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والے کو تین ماہ قید یا چالیس ہزار روپے تک جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ تاہم ضلعی ناظم حکومت کی پیشگی منظوری سے مخصوص مقامات پر دو ہفتوں تک پتنگ بازی کی اجازت دے سکے گا۔ پتنگ بازی سے منسلک تاجروں کے لیے بھی اب ضلعی انتظامیہ کے پاس اندراج کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب میں موسم بہار کے موقعہ پر بسنت کا تہوار بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ تاہم صوبہ سرحد میں بڑے پیمانے پر پتنگ بازی کی کوئی روایت نہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس قانون کی منظوری پر عوامی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پتنگ بازی سے منسلک تاجروں کی جانب سے اس قانون سازی پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں جلد اخباری کانفرنس کا اہتمام کریں گے۔ صوبائی وزیر بلدیات اور دیہی ترقی سردار ادریس نے اس قانون کا بل منگل کو سرحد اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔ بل بغیر کسی قابل ذکر بحث کے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون سازی کی وجہ انہوں نے پتنگ اڑانے کے عمل سے انسانی جانوں اور سرکاری اور نجی املاک کو خطرہ قرار دیا۔ | اسی بارے میں ڈور پھرنے سے چار سالہ بچہ ہلاک05 March, 2006 | پاکستان بسنت کے حادثات میں 19 ہلاک07 February, 2005 | پاکستان بسنت کے حادثات میں سولہ ہلاک06 February, 2005 | پاکستان بسنت کی بہار 11 جانیں لے چکی 06 February, 2005 | پاکستان بسنت کے خلاف درخواست خارج04 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||