BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 09:40 GMT 14:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اموات کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے‘

پتنگ بازی
سپریم کورٹ نےکئی ہفتے پہلے حکومت پنجاب کے پتنگ بازی کی اجازت دینے کا ازخود نوٹس لیا تھا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ موسم بہار کے دوران پتنگ بازی سے جو بھی ہلاکتیں ہوں گیں اس کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔

یہ بات چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پیر کے روز پنجاب میں پتنگ بازی کی اجازت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران کہی۔

سپریم کورٹ کی نو رکنی بڑے بینچ نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا اور صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل آفتاب اقبال پیش ہوئے اور عدالت کو حقائق سے مطلع کیا۔

چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے اور جب گزشتہ برس پنجاب حکومت نے پندرہ روز کی اجازت دی تھی تو اس دوران کتنی ہلاکتیں ہوئیں تھیں؟

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ اس بارے میں بعد میں عدالت کو آگاہ کریں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ متعدد ہلاکتیں ہوئیں تھیں اور خود پنجاب حکومت نے پندرہ روز سے پہلے ہی پابندی عائد کردی تھی۔

چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کی جانب سے چند روز قبل بسنت کے موقع پر پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت کا اختیار ضلعی ناظموں کو دینے کے متعلق آرڈیننس جاری کرنے کے بارے میں پوچھا تو صوبائی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اس سلسلے میں عدالت سے اجازت لینی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرڈیننس جاری کرنے کے بعد اجازت کس طرح لی جا رہی ہے؟۔ اس پر وکیل خاموش رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پتنگ بازی کی اجازت پنجاب حکومت نے دی ہے عدالت کا اس سے واسطہ نہیں ہے اور اگر کوئی بھی ہلاکت ہوئی تو ذمہ داری بھی پنجاب حکومت کی ہوگی۔

 عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ گزشتہ برس پتنگ بازی سے ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ ملا ہے یا نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کپ تمام متاثرین کو معاوضہ صوبائی حکومت نے ادا کردیا ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی لوگ مرتے ہیں تو عدالتوں کو ہی برا بھلا کہتے ہیں جبکہ اس معاملے میں جو کچھ بھی ہوگا صوبائی حکومت ذمہ دار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چار جنوری کو پنجاب حکومت کے منصوبہ بندی اور ترقیات کے ادارے کے چیئرمین نے نیوز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ چوبیس اور پچیس فروری کی درمیانی شب بسنت میلہ منایا جائے گا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ چیئرمین نے نیوز کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت ہوگی اور بعد میں بیس جنوری کو صوبائی حکومت نے آرڈیننس جاری کردیا۔

چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سے کہا کہ وہ چیئرمین منصوبہ بندی کی نیوز کانفرنس کی کاپی فراہم کریں۔ عدالت نے ایک نجی ٹی وی چینل کے نمائندے کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس نیوز کانفرنس کا ویڈیو ٹیپ عدالت میں جمع کرائیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ گزشتہ برس پتنگ بازی سے ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ ملا ہے یا نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ تمام متاثرین کو معاوضہ صوبائی حکومت نے ادا کردیا ہے۔ عدالت نے مزید کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
پتنگ کی ڈور سے بچی ہلاک
15 May, 2006 | پاکستان
پتنگ ڈور سے تیسری ہلاکت
27 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد