پتنگ کی ڈور سے بچی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے دن لاہور میں ایک دس سالہ بچی گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک ہوگئی جو گزشتہ تین ماہ میں پتنگ ڈور سے ہونے والی چالیسویں ہلاکت ہے۔ اتوار کے دن فیروز پور روڈ اچھرہ کی سڑک پر کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور دس سالہ بچی اقصیٰ کے گلے پر پھر گئی جو اپنے والد کے ساتھ موٹر سائکل پر آگے بیٹھی ہوئی تھی۔ اقصیٰ کے والد نے خون میں لت پت بچی کو ہسپتال پہنچایا لیکن وہ بچ نہ سکی کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی شہ رگ گہرائی سے کٹ گئی تھی اور بہت خون بہہ چکا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔
اس سال سترہ مارچ کو سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے لوگوں کے ورثاء کو تلافی کی رقم دے کیونکہ وہ اس کی غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں پنجاب کے سابق گورنر شاہد حامد نے کہا تھا کہ اس سال تیرہ فروری سے پندرہ مارچ تک پتنگ بازی کے باعث اڑتالیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد بائیس مارچ کو لاہور میں ایک بچہ پتنگ لوٹتےہوئے ٹرین کے نیچے آکر ہلاک ہوگیا تھا۔
پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود لاہور میں پتنگ بازی جاری رہتی ہے۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پتنگ بازی پر چھ سو مقدمات درج کیے لیکن اس کے باجود لوگ پتنگ بازی سے باز نہیں آتے۔ تاہم عام لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس پتنگ بازوں کو رشوت لے کر رہا کردیتی ہے اور انہیں قانون کے مطابق سزا نہیں دلواتی جسے غیرقانونی پتنگ بازی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے پتنگ بازی سے ہونے والی ہلاکتوں کے معاملہ پر سماعت کے لیے چھبیس مئی کی تاریخ مقرر کی ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں بسنت : حکومت خون بہا ادا کرے17 March, 2006 | پاکستان سرحد: پتنگ بازی ناقابل ضمانت04 April, 2006 | پاکستان بسنت : لاہور سے پانچ سوگرفتار12 March, 2006 | پاکستان پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||