BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 February, 2007, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور بسنت: پانچ ہلاک، پچاس زخمی

 پتنگ
’سب سے بڑی مشکل پتنگ اڑانے کا اجازت نامہ حاصل کرنا تھا‘
پاکستان کے شہر لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف حادثات میں پانچ بچے ہلاک اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

لاہور پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں میں سے فاروق نامی بچہ گلشن راوی ای بلاک میں کٹی پتنگ کی ڈورگلے پر پھرنے سے، تین بچےگولی لگنے سے اور ایک چھت سے گرنے سے ہلاک ہوا۔ ان ہلاکتوں کے علاوہ اتوار کی شام تک پچاس افراد گلے پر ڈور پھرنے یا دیگر حادثات کاشکار ہو کر ہپستالوں تک پہنچے ہیں۔

ماضی میں ہر برس بسنت پر درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوتے تھے تاہم اس مرتبہ یہ شرح خاصی کم رہی۔ اس کمی کی ایک ممکنہ وجہ پتنگ بازی کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کردہ نئے قوانین بھی رہے۔

بسنت کا آغاز سنیچر کی رات سے ہوا تھا اور بتدریج آسمان پر پتنگوں کی تعداد بڑھتی ہی رہی اور کوئی دو برس کے وقفے کے بعد ایک بار پھر شہر کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا دکھائی دیا۔ بو کاٹا کے نعرے، باجوں کی آوازیں اور ڈیک پر اونچی آواز میں گانے سنائی دینے لگے۔

لاہور میں بسنت کی تقریبات کے انتظامات حکومت نے بھی کیے اور شہر کو رنگین پوسٹروں اور جھنڈوں سے سجایا گیا۔ ریس کورس پارک اور دیگر مقامات پر بسنت کے حوالے سے تقریبات ہوئیں جن میں صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی۔

ضلعی حکومت نے اس برس نئے قوانین بناکر پتنگ بازی کی محدود اجازت دی تھی اور اس قانون کے تحت صرف دو روز کے لیے پتنگ بازی کی جا سکتی ہے۔ بسنت نائٹ کے موقع پر بھی سنیچر کی رات مختلف ہوٹلوں ،پلازوں اور گھروں کی چھتوں پر خصوصی تقریبات منعقد ہوئیں جن میں کھانے پینے کے علاوہ ناچ گانے اور ہلا گلا بھی ہوا۔

پتنگ باز عدنان بٹ کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات ہوا بھی نہیں چلی جس وجہ سے پتنگیں اڑانا دشوار رہا اور پھر لوگوں کو یہ سمجھتے سمجھتے بھی وقت لگا کہ انہیں کسی حد تک پتنگیں اڑانے کی اجازت ہے۔

احتجاج
ڈور پھرنے سے ہلاکتوں پر لوگوں کا احتجاج

لاہور کے پتنگ بازوں کے لیے سب سے بڑی مشکل پتنگ اڑانے کا اجازت نامہ حاصل کرنا تھا۔ یہ اجازت نامہ مقامی یونین کونسل کے ناظم سے لے کر اس کی تھانے سے رجسڑیشن کروانا ضروری تھا۔ بے شمار لوگوں نے رجسڑیشن کروائی لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جنہوں نے اس پابندی پر عملدرآمد کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

پتنگ بازی کے شوقین محمد خالد مغل نے کہا کہ اگرچہ ان کے گیارہ سالہ بیٹے نے مقامی ناظم سے اجازت نامہ تو لے لیا ہے لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی کیونکہ آس پاس کے لوگ بغیر اجازت نامہ کے ہی پتنگ بازی کررہے تھے۔

بسنت کے حوالے سے ایک حکومتی پابندی یہ بھی تھی کہ موٹر سائیکل سوار بغیر حفاظتی راڈ کے سڑک پر نہیں آسکتا جبکہ دھاتی تار سے پتنگ اڑانے والے کی مخبری کرنے والے شہری کے لیے پانچ ہزار کاانعام مقرر تھا۔ان پابندیوں کی وجہ سے حادثات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی اور بجلی کی ٹرپنگ ماضی کے مقابلے میں بعض علاقوں میں تو نہ ہونے کے برابر رہی۔

اسی بارے میں
لاہور میں بسنت نائٹ کا آغاز
24 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد