ڈیڑھ سالہ بچہ ڈور پھِرنے سے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنےسے ایک ڈیڑھ سالہ بچہ ہلاک ہوگیا ہے۔ یہ بچہ شہر کے اندرونی علاقے کا رہائشی تھا اور اس کے والد محمد اعجاز اسے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے جارہے تھے۔ محمد اعجاز نے بتایا کہ اچانک ڈور ان کے بچے عبدالرحمان کی گردن پر گری۔
لاہور میں ہر سال پتنگ بازی کے دوران مانجھا لگی ڈور گلے پر پھرنے سے کئی افراد ہلاک ہوجاتےہیں حکام نے ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے کے بعد سے لاہورمیں پتنگ بازی پر پابندی لگا رکھی ہے اور اب پتنگ بازی قابل دست اندازی پولیس جرم ہے تاہم اس کے باوجود شہر میں مختلف مقامات پر اِکا دُکا پتنگ اڑتی نظر آجاتی ہیں۔ پتنگ بازی پر پابندی مقامی پولیس کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ مہینے بھی لاہورمیں ایک کم سن بچی گلے پر ڈور پھرے سے ہلاک ہوگئی تھی۔ ڈور پتنگ اڑانے والے اس دھاگے کو کہا جاتا ہے جسے مانجھا اور مختلف کیمیکل لگا کر تیز دھار کر دیا جاتا ہے تاکہ پیچ لڑا کر مخالف کھلاڑی کی پتنگ کا دھاگہ کاٹاجا سکے۔ پتنگ بازی اور ان کے پیچ اگرچہ صدیوں پرانا کھیل ہے لیکن موجودہ دور میں تیز کاٹ والے کیمیکل اور ضرورت سے زیادہ مضبوط دھاگے نے اسے جان لیوا بنا دیا ہے۔ | اسی بارے میں پتنگ بازی موت کا کھیل کیسے بنی؟09 March, 2006 | پاکستان پتنگ کی ڈور سے بچی ہلاک15 May, 2006 | پاکستان سرحد: پتنگ بازی ناقابل ضمانت04 April, 2006 | پاکستان بسنت : حکومت خون بہا ادا کرے17 March, 2006 | پاکستان بسنت : لاہور سے پانچ سوگرفتار12 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||