لاہور بسنت: چار مقدمات، تین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پولیس نے بسنت پر چار بچوں کی ہلاکت پر قتل کے الگ الگ چار مقدمات درج کر لیے ہیں اور ایک کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بسنت کے دو دن کے دوران مختلف حادثات میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں یہ ہلاکتیں چھت سے گرنے کرنٹ لگنے گردن پر ڈور پھرنے یا ہوائی فائرنگ سے ہوئی۔ لاہور کے ایڈیشنل آئی جی ملک اقبال نے کہا کہ ان میں سے جن چار واقعات کے مقدمے درج کیے گئے ہیں ان میں سے ایک بچے کی شہ رگ کٹ گئی تھی جبکہ دیگر تین واقعات گولی لگنے سے ہلاکت کے ہیں۔ پتنگ بازی پرسپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود حکومت پنجاب نے دو روز کے لیے یعنی چوبیس اور پچیس فروری کو پتنگ بازی کی اجازت دی تھی البتہ چند نئے قوانین متعارف کرواکے ہلاکتوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے ان دو روز کےدوران چھ سو کے قریب افراد کو ان قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار بھی کیا تاہم بسنت مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ دو روز میں دس افراد کی ہلاکت اور دو سوسے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے حکومتی اقدامات کو غیر موثر ثابت کیا ہے۔ لاہور اور گوجرنوالہ میں مذہبی جماعتوں نے بسنت کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ادھرحکومت پنجاب راولپنڈی، قصور اور فیصل آباد میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی۔ وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان کے مطابق مذکورہ تینوں شہروں کی ضلعی حکومتوں نے ان سے پتنگ بازی کی اجازت مانگی تھی جسے وزیر اعلی پنجاب نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے محکمۂ لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ضلعی حکومت کو پتنگ بازی کی اجازت نہ دی جائے۔ | اسی بارے میں لاہور میں بسنت نائٹ کا آغاز24 February, 2007 | پاکستان اس بار بسنت پر لاہور میں چھٹی 13 February, 2007 | پاکستان ’اموات کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے‘22 January, 2007 | پاکستان پنجاب: پتنگ بازی ناظم کی اجازت سے20 January, 2007 | پاکستان سرحد: پتنگ بازی ناقابل ضمانت04 April, 2006 | پاکستان بسنت : حکومت خون بہا ادا کرے17 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||