چیف جسٹس آف پاکستان معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کر کے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریفرنس دائر کرنے سے پہلے صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلا کر ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ لیکن جسٹس افتخار چوہدری نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جسٹس افتخار چوہدری کی سرکاری رہائشگاہ کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی کو بھی ان سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جسٹس افتخار چوہدری کے بعد سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس رانا بھگوان داس ہیں، لیکن وہ ان دنوں چھٹی پر ہیں۔
ان کی غیر حاضری میں ڈیوٹی پر موجود ججوں میں سے سینئر جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کر دیا گیا ہے، جنہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ حلف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے لیا۔ تقریب میں چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بھی موجود تھے۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد قائم مقام چیف جسٹس اور جسٹس ڈوگر سے پوچھا گیا کہ جسٹس بھگوان داس کی واپسی پر چیف جسٹس کون ہوگا تو دونوں جج صاحبان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل پہلے سے قائم ہے اور وہی جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف بھیجے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گی۔ معطل چیف جسٹس کے بارے میں ایک عام تاثر تھا کہ انہوں نے از خود کارروائی کرتے ہوئے بہت سے غریبوں کو سہولت دی۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو اہم ملازمت دلوائی۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کے مطابق معطل چیف جسٹس کو حاصل پروٹوکول اور تمام سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ صدر نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے مشاورت کے بعد کیا۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سٹیل ملز کو نجی شعبے میں دینے کے فیصلے کو چیف جسٹس نے خلاف قانون قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سٹیل ملز عجلت میں فروخت کی گئی اور خریداروں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں نے سٹیل مل کی نجکاری کو حکومت کی ’بدعنوانی‘ کا کھلا ثبوت قرار دیا تھا۔ سٹیل ملز کے خریدار عارف حبیب تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزیراعظم کے قریبی دوست ہیں۔ عارف حبیب کا نام سٹاک ایکسچینج کے مصنوعی بحران میں بھی سامنے آیا تھا اور سپریم کورٹ کے ریٹائر جج کی
اس کے علاوہ جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک بنچ پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرف سے دائر اپیلیں بھی سن رہا تھا۔ پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ان افراد میں زیادہ تعداد بلوچستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی ہے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے عزیزوں کی ’گمشدگی‘ میں حکومتی خفیہ ادارے ملوث ہیں۔ | اسی بارے میں عدلیہ پر اعتماد میں کمی کا خدشہ09 February, 2007 | پاکستان پاکستان: ’انصاف کے دروازے بند‘08 February, 2007 | پاکستان جرگہ نظام غیرآئینی، چیف جسٹس27 December, 2006 | پاکستان پشاور: گمشدگیوں پرعدالتی نوٹس 13 December, 2006 | پاکستان کرپشن اور عدلیہ15 August, 2006 | پاکستان ’لوگ عدلیہ سے مایوس ہیں‘30 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||