جرگہ نظام غیرآئینی، چیف جسٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس بھگوان داس نے کہا ہے کہ جرگہ نظام غیر قانونی ہے اور مصالحتی پنچائت یا ثالثی فیصلوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ’اگر جرگوں کے خلاف سپریم کورٹ کے پاس کوئی پٹیشن آئےگی تو فیصلہ دیا جائیگا۔‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کے دائرے میں رہ کر قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے ممکنہ حد تک کوششیں کر رہی ہے۔’یہ سپریم کورٹ کا آئینی فرض اور قومی تقاضا بھی ہے۔‘ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سید سعد اشہد کی تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں میں کرپشن کا تاثر درست نہیں ہے۔ ’اگر کسی حد تک درست ہے تو یہ صوبائی چیف جسٹسس کا معاملہ ہے اس میں سپریم کورٹ کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کے ججوں کی تنخواہیں اور الاؤنس کم ہیں۔’مکان کی سہولت نہیں ہے گاڑیوں یا پیٹرول کی کمی ہے تاہم اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی مراعات مناسب ہیں۔‘ سپریم کورٹ میں التوا کا شکار مقدمات کے بارے میں جسٹس رانا بھگوان داس نے بتایا کہ کراچی کی رجسٹری میں اب چار سو، لاہور میں چار ہزار، اور اسلام آباد میں تقریبا دس گیارہ ہزار مقدمات رہے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’ مقدمات کی ایک بڑی تعداد کو نمٹا دیا گیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں دو ہزار چھ کے مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں سے کئی مقدمات کے فیصلے آچکے ہیں۔ | اسی بارے میں احتساب بیورو کی درخواست رد22 February, 2005 | پاکستان مشرف حملہ: سپریم کورٹ اپیل سنےگی12 April, 2006 | پاکستان سپریم کورٹ بار: ترقی پسند فاتح18 December, 2006 | پاکستان ’بھگوان‘ انڈیا نہیں جا سکے30 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||