سپریم کورٹ بار: ترقی پسند فاتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیں بازو اور پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار منیر ملک سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی ری پولنگ میں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ملک بھر سے پندرہ سو سے زیادہ چوٹی کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اکتیس اکتوبر کو بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے نتائج متنازعہ ہونے کےباعث پاکستان بار کونسل نے اپنی نگرانی میں پیر، اٹھارہ دسمبر کو دوبارہ ری پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا تھا جو سپریم کورٹ بار کی تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ ہے۔ پیر کو ہونے والے انتخابات میں معروف قانون دان حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ کے امیدوار منیر ملک نے چھ سو تیس ووٹ حاصل کیے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار راجہ حق نواز نے پانچ سو اٹھانوے ووٹ حاصل کیے۔ راجہ حق نواز کو سابق جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک قیوم کی سربراہی میں قائم گروپ کی حمایت حاصل تھی جس میں معروف قانون دان کریم اے ملک اور لطیف خان کھوسہ بھی شریک ہیں۔ جیتنے والے امیدوار منیر ملک کی حمایت بائیں بازو کے ترقی پسند وکلاء اور پیپلز پارٹی سے وابستہ وکلا گروپ کر رہے تھے جبکہ ہارنے والے حق نواز کی حمایت مسلم لیگ اور دائیں بازو کے وکلا کر رہے تھے۔ جیتنے اور ہارنے والے دونوں امیدوار کراچی میں مقیم ہیں البتہ ان کا تعلق بنیادی طور پر پنجاب سے ہے۔ منیر ملک فیصل آباد سے جبکہ راجہ حق نواز راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پنجاب میں وکلا برادری جٹ، راجپوت اور آرائیں برادریوں کی بنیاد پر بھی بٹی ہوئی ہے۔ اکتیس اکتوبر کو ہونے والی پہلی ووٹنگ میں ابتدائی طور پر منیر ملک نے گیارہ ووٹوں سے اپنی کامیابی کا دعوی کیا تھا لیکن عہدہ چھوڑ کر جانے والے بار کے صدر ملک قیوم نے ری پولنگ میں اپنے حمایت یافتہ امیدوار راجہ حق نواز کی کامیابی کا اعلان کردیا تھا۔ پاکستان بار کونسل نے منیر ملک کے جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے راجہ حق نواز کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ بالآخر سپریم کورٹ میں معاملہ گیا جس نے وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل کو اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے نپٹانے کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان بار کونسل نے ایک پانچ رکنی کمیٹی کی زیر نگرانی پیر کے روز کو ری پولنگ کروائی۔ جس طرح سپیریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں وکلا کے مخالف دھڑوں نے پہلی پولنگ کے نتائج پر تنازعہ کھڑا کیا وہ پاکستان میں بار ایسوسی ایشنوں کی تاریخ کا منفرد واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ’حکومتی بیان، سراسر غلط بیانی‘06 November, 2006 | پاکستان عدالت فیصلہ نہ سنائے، ہائی کورٹ12 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||