عدالت فیصلہ نہ سنائے، ہائی کورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر خودکش بم دھماکہ میں ملوث ملزمان کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو فیصلہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ کراچی میں رواں سال دو مارچ کو امریکی قونصلیٹ کے قریب ہونے والے خودکش بم حملے میں امریکی سفارت خانے کے عملدار ڈیوڈ فوائے سمیت چارافراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کراچی پولیس نے گزشتہ دنوں اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں عثمان غنی اور انوارالحق کو گرفتار کیا تھا پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کا تعلق القاعدہ سے ہے جبکہ خودکش بمبار کی شناخت راجہ طاہر کے نام سے کی گئی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج حق نواز بلوچ کے پاس یہ مقدمہ زیرِ سماعت ہے، جس کے خلاف ملزموں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ ملزمان نے موقف اختیار کیا تھا کہ جج حق نواز بلوچ غیرجانبدار نہیں رہے ہیں ان سے امریکی افسر ملاقات کرتے رہے ہیں اس لیے ان کا ذہن ان کے خلاف بن گیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ جج صاحب ان کا تعلق القاعدہ سے دکھا کر انہیں سزا سنائیں گے جو انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔ انہوں نے عدالت سے گذارش کی ہے کہ ان کا مقدمہ کسی اور جج کی عدالت میں منتقل کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے ملزمان کی درخواست پر ماتحت عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے اور ایڈووکیٹ جنرل کو بیس دسمبر کو طلب کرلیا ہے۔ | اسی بارے میں بم دھماکہ خودکش حملہ تھا:پولیس02 March, 2006 | پاکستان امریکی قونصلیٹ پر تیسرا حملہ02 March, 2006 | پاکستان کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب شیلنگ03 March, 2006 | پاکستان عمر شیخ اپیل: چار سال بعد سماعت11 December, 2006 | پاکستان کالعدم تنظیم کے تین ارکان گرفتار07 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||