BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 December, 2006, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمر شیخ اپیل: چار سال بعد سماعت

عمرشیخ
عمرشیخ کو ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث ہونے پر 2002 میں سزا سنائی گئی تھی
امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں سزائے موت پانے والے برطانوی شہری عمر شیخ اور دیگر تین ملزمان کی اپیلوں پر چار سال کے بعد سماعت کا آغاز کیا گیا ہے۔

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے صحافی ڈینیل پرل کو جنوری سنہ دو ہزار دو میں کراچی میں اس وقت اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جب وہ شدت پسندوں کے بارے میں ایک رپورٹ پر کام کر رہے تھے۔

حیدرآباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دو ہزار دو میں مقدمے کے اہم ملزم احمد عمر شیخ کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ تین دیگر ملزموں شیخ عادل، سلمان ثاقب اور فہد نسیم کو عمر قید کا حکم سنایا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں ملزمان اور حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اسی سال اپیلیں دائر کی گئیں تھیں۔

عمر شیخ اور دیگر ملزمان نے بری ہونے کے لیے اپیل دائر کی تھی جبکہ استغاثہ نے تین ملزمان کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل دائر کی تھی ۔

چار سال کے بعد پیر کی صبح سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس منیب خان پر مشتمل اپیلٹ بینچ نے ان اپیلوں کی سماعت کی۔
سماعت کے پہلے دن احمد عمر شیخ کے وکیل خواجہ سلطان نے عدالت کو چھ گواہوں کے بیانات پڑھ کر سنائے اور اپنے دلائل پیش کیے۔

ملزموں کو سماعت کے اس موقع پر پیش نہیں کیا گیا۔ وکیلِ استغاثہ راجا قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ قانون کے تحت اپیل کے موقع پر ملزمان کو پیش کرنا ضروری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ اپیلیں چالیس سے زائد مرتبہ عدالت میں سماعت کے لیے پیش کی جاچکی ہیں، اس دوران استغاثہ نےکبھی بھی وقت نہیں مانگا ہمیشہ ملزمان کے وکلاء نے وقت مانگا ہے‘۔

ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں اغوا اور پھر قتل کیا گیا تھا

وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ اب ہر روز سماعت ہوگی اور امید کی جا رہی ہے کہ ان اپیلوں کا جلد فیصلہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ عمر شیخ ان تین شدت پسندوں میں سے ایک ہیں جنہیں بھارت کی تحویل سے 1999 میں ایک بھارتی طیارے کو اغوا کر کے مسافروں کی رہائی کے بدلے آزاد کروایا گیا تھا۔

عمر شیخ نے پاکستان اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی تھی ۔ وہ برطانیہ کے لندن سکول آف اکنامکس میں طالب علم تھے جب وہ بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ ان کی لڑائی میں شریک ہونے کے لیے چلے گئے تھے۔ بعد میں انہوں نے کشمیر کی لڑائی میں بھی حصہ لیا۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں دعوٰی کیا ہے کہ عمر شیخ صحافی ڈینئل پرل کے اغوا میں ملوث تھے لیکن ان کے قتل سے لاعلم تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد