BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 November, 2006, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومتی بیان، سراسر غلط بیانی‘

باجوڑ
مدرسے پر بمباری کے خلاف چند روز پہلے ہونے والا مظاہرہ
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مدرسے پر بمباری کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے وکلاء کے ایک وفد نے مدرسے کا دورہ کرنے کے بعد حکومت کے اس بیان کو سراسر غلط بیانی قرار دیا ہے کہ وہاں شدت پسندوں کا کوئی تربیتی مرکز تھا۔


وفد نے مقامی لوگوں کی شہادتوں کی بنیاد پر کہا ہے کہ یہ بمباری امریکیوں نے کی ہے۔

صوبہ سرحد کے وکلاء کا ایک تحقیقاتی وفد گزشتہ ہفتے مدرسے پر بمباری کے واقع کے اصل حقائق جاننے کے لیئے پیر کے روز خار پہنچا تھا۔ ان کے ساتھ پشاور کے چند صحافی بھی تھے۔

یہ باجوڑ سے باہر سے آنے والا پہلا گروپ تھا جو مدرسے تک پہنچ پایا۔ وفد کے ایک رکن غلام نبی نے واپسی پشاور پہنچنے پر بی بی سی کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے حکم پر باجوڑ داخلے کے مقام پہنچنے پر نواگئی میں ان کے ساتھ لیویز کے اہلکار بیٹھ گئے اور انہیں پولیٹکل ایجنٹ کے پاس لے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیٹکل ایجنٹ فہیم وزیر اس وقت اس مصحالتی جرگے سے ملاقات سے مصروف تھے جو بمباری سے قبل امن معاہدے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم وکلاء کو جرگہ اراکین سے بات کرنے نہیں دیا گیا۔

وفد بعد میں مدرسے کے لیئے روانہ ہوا تو صدیق آباد کے مقام پر انہیں روکا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور صدر مشرف، فوج اور پولیٹکل ایجنٹ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ عوامی زور کے سامنے ملیشیا اہلکار نہ رک سکے اور وکلاء اور صحافی مدرسے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

خاموش عدالتیں
 جب مختاراں مائی جیسے واقعات میں اعلیٰ عدالتیں خود نوٹس لے سکتی ہیں تو پھر اس واقعے میں وہ خاموش کیوں ہیں
بیرسٹر باچا

غلام نبی نے بتایا کہ انہوں نے ستائیس قبریں ایک قطار میں دیکھیں جبکہ ایک کنال کے مدرسے میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں عسکری تربیت دی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ عینی شاہدین نے امریکی طیاروں کو پہچان لیا تھا۔

وفد نے وہاں مدرسے کے مہتتم مولوی لیاقت جوکہ بمباری میں ہلاک ہوئے تھے بھائی اور دیگر لواحقین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وکلاء وفد کے سربراہ بیرسٹر باچا نے خطاب میں کہا کہ مدرسے کو دیکھنے کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہاں عسکری تربیت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختاراں مائی جیسے واقعات میں اعلی عدالتیں خود نوٹس لے سکتی ہیں تو پھر اس واقعے میں وہ خاموش کیوں ہیں۔

ان وکلاء کے ساتھ مدرسے کا دورہ کرنے والے پانچ مقامی صحافیوں کو واپسی پر چند گھنٹوں کے لیئے حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد رہا کر دیا۔ عارضی طور پر حراست میں لیئے جانے والے صدر مقام خار کے پانچ صحافیوں میں مسعود خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے وائرلیس فون پر دوران حراست بتایا کہ حکام نے ان کے اس اقدام کی وجہ نہیں بتائی ہے۔ ان کے ساتھ قبائلی صحافیوں کی تنظیم کے جنرل سیکٹری ڈاکٹر نور حکیم، حسین احمد، ظفر اللہ اور محمد ابراہیم شامل ہیں۔

اس وفد کا اعلان پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل نے اتوار کو کیا تھا۔ وفد میں ممتاز وکیل برسٹر باچا، فاٹا لائرز ایسوسی ایشن کے صدر کریم محسود خان، محمد خورشید خان، قیصررشید، غلام نبی اور احمد زیب خان شامل تھے۔

تحقیقاتی کمیشن بعد میں پشاور واپس لوٹ آیا۔ وکلاء اپنی رپورٹ صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف جسٹس سپریم کورٹ و پشاور ہائی کورٹ اور گورنر سرحد کو بھیجوانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد