BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حمایت یافتہ جرگہ کا نام ومقام تبدیل

جنرل پرویز مشرف
توقع ہے کہ صدر مشرف بلوچستان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا اعلان کریں گے
بلوچستان کے حوالے سے حکومت کا اعلان کردہ جرگہ اب جرگہ نہیں رہا بلکہ صدر جنرل پرویز مشرف کا عمائدین سے خطاب ہوگیا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ یہ خطاب بھی اب صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی بجائے گوادر میں آٹھ نومبر کو نہیں بلکہ سولہ نومبر کو متوقع ہے۔

حکومت مخالف سردار اسے حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ سرداری نظام کو مضبوط نہیں کرنا چاہتے اس لیے اسے جرگے کی بجائے عمائدین سے خطاب کا نام دیا گیا ہے۔

خان آف قلات سلیمان داؤد نے صحافیوں سے کہا ہے کہ حکومت جرگہ بلانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے کیونکہ ان کے بقول بلوچستان کا کوئی بھی باضمیر نواب، سردار، معتبر یا نوجوان ایسے جرگے میں شرکت نہیں کرے گا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان آف قلات کے طلب کردہ جرگے میں تمام سرداروں نے شرکت کی جس میں حکومتی پالیسیوں کی مذمت کی گئی اور اب اس کے جواب میں حکومت ایک خود ساختہ جرگہ بلانا چاہتی ہے لیکن جرگے کی تاریخیں اور مقامات تبدیل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائل کے جرگے خان اور والی بلاسکتے ہیں اور قبیلے کے جرگے سردار بلاتے ہیں لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نہ تو سردار ہیں اور نہ ہی نواب ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ حکومت کے مقاصد کیا ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے فوجی چھاونیوں اور فوجی آپریشن کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت سرداری نظام کو مضبوط نہیں کرنا چاہتی اس لیے اسے جرگے کی بجائے عمائدین سے خطاب کا نام دیا گیا ہے۔ رزاق بگٹی کے بقول اس خطاب کے حوالے سے کئی سرداروں اور معتبرین نے ان سے رابطہ کیا ہے کہ وہ اس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خطاب کے لیے حکومت مخالف سرداروں اور نوابوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ۔ رازق بگٹی نے کہا کہ اب خطاب گوادر میں سولہ دسمبر کو متوقع ہے جس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

پہلا خطاب
 نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کا بلوچستان کے عمائدین سے بلوچستان میں یہ پہلا خطاب ہوگا جس میں توقع ہے کہ صدر پرویز مشرف صوبے میں پائی جانے والی بے چینی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا اعلان کریں گے۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کا بلوچستان کے عمائدین سے بلوچستان میں یہ پہلا خطاب ہوگا جس میں توقع ہے کہ صدر پرویز مشرف صوبے میں پائی جانے والی بے چینی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا اعلان کریں گے۔

ماہ رمضان میں وزیر اعظم شوکت عزیز کے کوئٹہ کے دورے کے بعد اس جرگے کا اعلان کیا گیا اور اس کے لیے تیاریاں کی جا رہی تھیں لیکن اس میں صرف وہی سردار اور عمائدین شرکت کرنا چاہتے ہیں جو حکومت کی حمایت کرتے آئے ہیں اور عام طور پر اس طرح کی سرکاری تقاریب میں ہمیشہ شرکت کرتے آئے ہیں یا کسی نہ کسی سطح پر حکومت کا حصہ ہیں۔

ایسی صورتحال میں جب خان آف قلات، چیف آف جھلاوان، چیف آف سراوان، بگٹی، مری اور شاہوانی قبیلے کے ساتھ کئی دیگر قبائل کے سردار شرکت نہ کریں تو وہ جرگہ اہمیت کھو دے گا۔

بلوچستان میں خان آف قلات کو سرداروں کا سردار کہا جاتا ہے جبکہ چیف آف جھلاوان اور چیف آف سراوان کے ماتحت کوئی ستر سے پچہتر کے لگ بھگ سردار ہیں جو مختلف قبائل کی ذیلی شاخوں کا نمائندگی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد