BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرگہ رابطوں کی بحالی کا خیر مقدم

جرگہ
قبائلیوں نے حکومت سے قیدیوں کی رہائی اور مراعات دوبارہ بحال کرنے کے مطالبات دہرائے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تقریباً ایک سال کے تعطل کے بعد مقامی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے درمیان رابطوں کے دوبارہ بحال ہونے کا مقامی شدت پسندوں نے خیرمقدم کیا ہے۔

مقامی جنگجوؤں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اٹھارہ قبائلیوں کے خلاف حکومت سے رابطوں کے سلسلے میں جاری تحقیقات بھی روک دی ہیں۔ مقامی طالبان کا کہنا تھا کہ ان قبائلیوں نے ان کی جانب سے حکومت سے رابطوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کی تھی۔

عسکریت پسندوں کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ وہ بھی جنگ بندی کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور انہیں امید ہے حالات اب امن کی جانب بڑھ پائیں گے۔

مقامی طالبان نے ان کی جانب سے نقاب پوش کارروائیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی میں ملوث لوگ اب ان میں سے نہیں ہوں گے۔

مقامی طالبان کے ترجمان نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ پشاور میں دیگر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی براہ راست بات کی اور اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ مقامی شدت پسندوں کے ان تازہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اب کافی لڑائی کے بعد امن کے خواہاں ہیں۔

 جنگ بندی کے فیصلے پر قائم ہیں اور امید ہے حالات اب امن کی جانب بڑھ پائیں گے
عبد اللہ فرہاد

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں کل تقریباً ایک سال کے تعطل کے بعد ایک جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں قبائلیوں نے حکومت سے قیدیوں کی رہائی اور مراعات دوبارہ بحال کرنے جیسے اپنے مطالبات دہرائے تھے۔

اس جرگے میں تقریباً چار سو مقامی عمائدین، علما، منتخب نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی تھی۔ شمالی وزیرستان کے لیئے تعینات نئے پولیٹکل ایجنٹ ڈاکٹر فخر عالم نے بھی اس میں شرکت کی۔

جعمیت علمائے اسلام کے سیکٹری جنرل مولانا صدر عبدالرحمان نے جرگے میں حکومت کو یقین دلایا کہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں جو امن کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کی کہ قبائلی رسم و رواج کے مطابق فیصلوں کی صورت میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔

قبائلیوں اور جرگے کی طرف سے مطالبات پیش کرتے ہوئے مولانا صدر عبدالرحمٰن نے جیلوں میں بند بے گناہ قبائلیوں کی رہائی، برطرف اور معطل ملازمین کی نوکریاں بحال کرنا، معطل مراعات اور بند تنخواہیں بحال کرنے پر زور دیا۔

جرگے سے اپنے خطاب میں پولیٹکل ایجنٹ فخر عالم نے کہا کہ آج سے جرگوں کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔ انہوں نے مقامی طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا تاہم اس امید کا اظہار کیا کہ اسے مستقل شکل دے دی جائے گی۔ انہوں نے مطالبات پر غور کی یقین دہانی بھی کرائی۔

جنگ بندی کتنی موثر
بالآخر شمالی وزیرستان سے اچھی خبر آئی ہے
لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
طالبانطالبان اور القاعدہ
تفریق کی پاکستانی پالیسی: عامر احمد خان
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد