طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف جدوجہد میں لگ بھگ کامیابی حاصل کر لی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وزیرستان کے قبائلی علاقے میں طالبان طرز کی انتہاپسندی کے ابھرنے پر انہیں زیادہ تشویش ہے۔ صدر مشرف نے جس طرح طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی ہے وہ پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ۔ یہ واضح تفریق ایک مدت سے پاکستانی پالیسی کا محور رہی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ پر ہونے والے حملوں اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف چھڑنے والی جنگ کے بعد مغربی دنیا کے لیے یہ تفریق ناقابل قبول ہو چکی ہے ۔ نہ صرف مغربی ممالک بلکہ بہت سے پاکستانی دانشور بھی اس تفریق کو جعلی اور ناقابل عمل قرار دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق القاعدہ اور طالبان ایک ایسے اٹوٹ رشتے میں بندھے ہیں کہ کسی ایک پر دباؤ خود بخود دوسرے کے جنگی جوش و جذبے کو ابھارتا ہے۔ ملٹری کے ایک اعلیٰ اہلکار جن کی قبائلی علاقے پر وسیع نظر ہے، کہتے ہیں: ’افغانستان پر قابض طالبان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکہ نے جب بمباری کی اسی وقت ہماری سکیورٹی پالیسی واضح تھی۔‘ ’ہم طالبان سے کہتے رہے کہ ایک مقامی سیاسی گروہ کے طور پر ان کا علاقے میں ایک واضح مستقبل ہے جبکہ القاعدہ کا دنیا کے کسی خطے میں بھی کوئی مستقبل نہیں۔‘
دوسرے لفظوں میں شاید پاکستان طالبان کو یہ اشارہ دے رہا تھا کہ وہ امریکی مخالفت کے باوجود طالبان کی مدد اور حمایت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ طالبان القاعدہ کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ دسمبر 2001 میں تورا بورا کے پہاڑی سلسلے پر امریکی بمباری کے دوران طالبان کی ایک بڑی تعداد وزیرستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس وقت پاکستان نے کہا تھا کہ اس نے تورا بورا کی پہاڑیوں میں محصور جنگجوؤں کو وزیرستان میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سرحد سیل کردی ہے لیکن مقامی لوگوں کے مطابق نہ صرف طالبان بلکہ ایک بڑی تعداد میں القاعدہ کے جنگجو بھی وزیرستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پشاور یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر زبیر محسود کہتے ہیں: ’ان دنوں میں وانا اور میران شاہ جیسے بڑے شہروں میں حماموں کے باہر سینکڑوں طالبان اور غیرملکی جنگجوؤں کو قطاریں لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔‘ زبیر محسود وزیرستان میں جاری لڑائی کا عالمی انسانی حقوق کے تناظر میں مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’وہ دھول میں لدے ہوئے ہوتے، کچھ زخمی ہوتے، کچھ بھوکے ہوتے۔ وہ غسل کرتے، مقامی ٹھکانوں کا انتظام کرتے اور دیہی علاقوں میں غائب ہوجاتے‘۔ وانا میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پناہ کے متلاشی ان جنگجوؤں میں افغان طالبان، عرب اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔ عربوں سے فائدے وزیرستان کی معیشت ہمیشہ سے ہی افغانستان اور پاکستان کے بیچ گزرنے والے سمگلنگ کے خفیہ تجارتی روٹ پر منحصر رہی ہے۔ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل غیرملکی جنگجوؤں کی سمگلنگ کچھ حد تک منظم سطح پر ہو رہی تھی جس کا انتظام ’پاکستانی فوج کرتی اور اس پرگہری نظر رکھتی تھی‘۔ وانا میں ایک قبائلی کا کہنا ہے کہ’لیکن تورا بورا پر بمباری کے بعد یہ سمگلنگ کھلم کھلا ہونے لگی‘۔
’بہت سے بےروزگار مقامی لوگوں کو، جن میں بعض کا افغانستان میں جنگجؤں سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا تھا، اچانک غیرملکی جنگجؤں کو ٹھکانے فراہم کرکے پیسہ کمانے کا راستہ مل گیا‘۔ وانا اور میران شاہ جیسے شہروں میں واقع دکانوں میں اچانک بند ڈبوں والے کھانوں جیسے مچھلی اور کھمبی (مشروم) کی بھرمار ہوگئی جسے مقامی قبائلیوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار جو بہت عرصہ قبائلی علاقوں میں تعینات رہے بتاتے ہیں کہ ’وزیرستان سے ملحقہ پاکستان کی افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دینا ناممکن ہے‘۔ ’ لہذٰا جب تورا بورا پر ہونے والی بمباری نے جنگجؤں کو وزیرستان میں داخل ہونے پر مجبور کردیا تو مقامی سمگلروں اور جرائم پیشہ افراد کو انہیں غذائی اشیاء اور ٹھکانے فراہم کرکے پیسے کمانے کا ایک موقع مل گیا۔‘ اس فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ان دنوں میں دس ڈالر والی بیس کلو چینی کی ایک بوری عربوں کو ایک سو ڈالر میں فروخت کی جانے لگی۔‘ ’یہ سب کچھ سوویت مخالف افغان جنگ کے دوران دیکھی جانے والی مہمان نوازی کے قطعی برعکس تھا۔ ان دنوں اپنی روایت پر فخر کرنے والے قبائلیوں نے جنگجؤں کو معزز مہمان کی حیثیت سے عزت دی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘ فوجی حکام بتاتے ہیں کہ 2002 اور 2004 کے درمیان جب وزیرستان میں فوج کا مرکزی کردار انٹیلیجنس اکٹھا کرنا تھا، غیرملکی جنگجوؤں کو ٹھکانے فراہم کرنے والے نئی قسم کے’قبائلی تاجروں‘ نے دولت اور اہمیت اختیار کرلی جو انہیں پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ فوجی اہلکار بتاتے ہیں: ’بدقسمتی سے پیسہ چوسنے والے ان افراد نے گزشتہ سال اکتوبر میں پنپنے والے پاکستانی طالبان میں خاصی اہمیت اختیار کر لی۔‘ طالبان کی واپسی بدلتی ہوئی اس نئی صورتحال نے پاکستان کے سامنے پالیسی کے دو متبادل پیش کیے: یا تو وہ تمام غیرملکی جنگجوؤں اور ٹھکانے فراہم کرنے والے ان کے مقامی ساتھیوں پر بغیر امتیاز جنگ شروع کردے یا مقامی قبائلیوں کو غیرملکیوں سے الگ کرنے کی کوشش کرنے کی پالیسی اپنائے۔ یہ واضح ہے کہ حکومت نے قبائلیوں کو غیرملکیوں سے الگ کرنے کی پالیسی اپنائی۔ پاکستان کی فوجی حکومت میں کئی لوگ ایسے ہیں جنہیں امید ہے کہ جب امریکی چلے جائیں گے تو ایک نہ ایک دن افغانستان میں طالبان پھر سے اقتدار میں آجائیں گے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں کے تحفظ کے لیے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے بڑھتے ہؤے دباؤ کے سامنے پاکستان کب تلک طالبان اور القاعدہ کے بیچ تفریق کی اس پالیسی کو جاری رکھ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان میں عارضی جنگ بندی01 May, 2006 | پاکستان فوج پر حملے کے ذمہ دار ہیں: طالبان25 April, 2006 | پاکستان ’وزیرستان، طالبان کا گڑھ‘26 April, 2006 | پاکستان پینتیس قبائلی افراد کی حراست21 April, 2006 | پاکستان امریکہ کے خلاف جہاد کا عزم21 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||