’وزیرستان، طالبان کا گڑھ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرستان میں مسلح جھڑپوں کے بعد یہاں نقش ہونے والے نشانات چیخ چیخ کر حالات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہیں، وہ مسلح جھڑپیں جو طالبان اور القاعدہ کے اراکین اور حکومت کی سکیورٹی افواج کے درمیان پچھلے کافی عرصے سے جاری ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ افغانستان کے ساتھ واقع قبائلی پٹی کے لوگ تاریخ کی ایک مختلف تصویر پیش کرتے تھے۔یہ وہ وزیرستان تھا جہاں کے رہنے والوں نے برطانوی افواج کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔ آج ان علاقوں کا دورہ کرنے والوں کو وہ گھر دکھائے جاتے ہیں جہاں پاکستان کے مطلوب ترین شخص عبداللہ محسود نے چینی یرغمالیوں کو اس وقت چھپا رکھا تھا جب حکومتی افواج نے ان پر حملہ کیا تھا۔ آج یہاں اس گھر کو دیکھنا بھی ممکن ہے جہاں امریکی فوج کے ایک حملے میں طالبان کے رہنما نیک محمد ہلاک ہوگئے تھے۔ قبائلیوں کی تازہ کھدی ہوئی قبریں جنوبی وزرستان کی واحد پکی سڑک کے ساتھ ساتھ ایک لائن میں موجود ہیں۔یہ وہ افراد ہیں جو سکیورٹی افواج یا نامعلوم حملہ آوروں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ نشانیاں بھی ایسے علاقے کی صحیح طور پر عکاسی نہیں کرتیں جو کہ امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ٹارگٹ ہے۔ امریکی حکام اس علاقے کو دنیا کا ’خطرناک ترین‘ علاقہ قرار دیتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق یہاں ہر کوئی اپنے آپ کو پاکستانی کہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہزاروں حکومتیں ہی کیوں نہ تبدیل ہوجائیں، اس علاقے پر بمشکل ہی اس کا کوئی اثر پڑتا ہے لیکن افغانستان میں حکومت کی ذرا سی جنبش سے پوری قبائلی پٹی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ظاہر یہی ہوتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی حامی کرزئی حکومت اور وہاں بچے کچے طالبان کے درمیان پایا جانے والا تنازعہ دراصل پاکستان کے قبائلی علاقے تک پھیل گیا ہے۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں وزیرستان میں مقامی طالبان کمانڈر شدت پسندوں کی رہنمائی کرنے لگے ہیں جبکہ عرب اور وسطیٰ ایشیا کے ممالک سے شدت پسند بھی اس علاقے میں بڑی تعداد میں آئے ہیں۔
وزیرستان میں داخل ہوکر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آپ ماضی میں لوٹ گئے ہیں۔مقامیوں کے قلعہ نما گھر بنجر پہاڑی علاقے میں دور دور واقع ہیں۔ان گھروں کی دیواریں ایک میٹر تک موٹی اور چھ میٹر تک چوڑی ہیں۔ یہ گھر بنیادی طور پر مقامی افراد کو افغان قبائلیوں سے محفوظ رکھنے کے لیئے بنائے گئے تھے۔ ان گھروں کو اتنا مقدس سمجھا جاتا ہے کہ ان پر حملہ، قتل سے زیادہ برا جرم قرار پاتا ہے۔ اس علاقے میں مسلح طالبان جنگجو سڑکوں اور بازاروں میں باآسانی گھومتے پھرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ’تین گھنٹہ طویل سفر میں میں یہاں ایک بھی فوجی کو نہیں دیکھ سکا ہوں‘۔ یہاں تعینات ہزاروں فوجی ایک قلعہ میں بنائے گئے اپنے بنکر میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جنگجو قبائلیوں کے لمبے بال، لمبی داڑھیاں اور چہرے پر سخت تاثرات انہیں غیر جنگجو قبائلیوں سے ممتاز بناتے ہیں۔ ہر جنگجو کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہوتی ہے جو ان کے لباس کا حصہ بن چکی ہے۔ کچھ کی جیکٹوں سے دستی بم لٹکے دھکائی دیتے ہیں جوکہ اسلحے کی نمائش پر حکومتی پابندی کا واضح رد عمل ہے۔ ایک فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اس علاقے میں اپنا فوجی آپریشن روکنے کے لیئے مضبوط وجوہات ہیں چاہے یہ طالبان کی شرائط پر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں یا تو ’کارپٹ بم‘ کا استعمال ہو، ’جس کا مطلب ہے یہاں موجود ہر ایک شخص کو ہلاک کرنا یا پھر ہمیں ہر گھر کے سامنے یہاں کے رہنے والوں کےساتھ ہاتھا پائی کرنا ہوگی۔یہی ایک طریقہ ہے جس سے بیرونی شدت پسند یہاں سے نکالے یا ختم کیئے جاسکتے ہیں‘۔ اور یہ دونوں طریقہ کار ہی ناممکن ہیں کیونکہ ان سے بھاری جانی نقصان ہوگا۔ ہر ایک موت ایک نئے تنازعہ کو جنم دے گی اور یہ جنگ ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں سات فوجی، چھ مزاحمت کار ہلاک20 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: سات فوجی ہلاک20 April, 2006 | پاکستان ’ دو امریکی جاسوس قتل‘19 April, 2006 | پاکستان پانچ سپاہی ہمارے قبضے میں: قبائلی18 April, 2006 | پاکستان وزیرستان کا سچ معلوم نہیں19 April, 2006 | پاکستان وزیرستان کارروائی، ’غیر ملکی‘ ہلاک13 April, 2006 | پاکستان وزیرستان جرگے کے مطالبات مسترد12 April, 2006 | پاکستان وزیرستان حملے میں دو افراد ہلاک10 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||