BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 April, 2006, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ دو امریکی جاسوس قتل‘

پاکستانی فوج
پاکستانی فوج وزیرستان میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں سرکاری ذرائع کے مطابق مزید دو افراد کو امریکہ کے لیئے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا گیا ہے۔

ایک شخص کو جنوبی وزیرستان میں گولیاں مار کر جبکہ دوسرے کو شمالی وزیرستان میں ذبح کرکے ہلاک کیا گیا۔ اس طرح اس ہفتے بظاہر جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیئے جانے والے افراد کی تعداد چار ہوگئی ہے۔

شمالی وزیرستان سے موصول اطلاعات کے مطابق میرعلی شہر سے تیس کلومیٹر شمال میں لوگوں کو ایک شخص کی سر کٹی لاش سڑک کنارے پڑی ملی ہے۔ اس لاش کو شناخت کے لیئے میرعلی لایا گیا۔

نسیم اللہ نامی اس شخص کی لاش کے پاس پشتو زبان میں ایک خط بھی ملا ہے جس میں اس پر امریکہ کے لیئے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ خط میں دوسروں کو بھی اس کام سے باز رہنے کے لیئے کہا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحدی علاقے برمل کے نسیم اللہ کا افغانستان اکثر آنا جانا لگا رہتا تھا۔

بظاہر جاسوسی کے الزام میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا جاتا ہے اور ان کا نام اسماعیل تھا۔ ان کی گولیوں سے چھلنی لاش جنوبی وزیرستان کے شالم علاقے سے ملی ہے۔ ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔

ادھر میران شاہ میں سرکاری ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ دنوں اغوا ہونے والے نیم فوجی ملیشیا کے پانچ سپاہیوں میں سے ایک بھاگنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

 اس ہفتے بظاہر جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیئے جانے والے افراد کی تعداد چار ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق شوال رائفلز کے نیاز خٹک اغوا کاروں سے فرار ہو کر میران شاہ پہنچ گئیے ہیں۔ ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکام نے مشتبہ اغوا کاروں کو نیم فوجی ملیشیا کے یہ سپاہی رہا کرنے کے لیئے تین روز کی مہلت دی ہے۔

رزمک کے علاقے میں معمول کی گشت کے دوران یہ سپاہی گزشتہ ہفتے لاپتہ ہوگئے تھے۔ بعد میں مقامی شدت پسندوں نے ان کو اغوا کرنے کا دعوی کیا تھا۔

شمالی وزیرستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ سپاہی بیت اللہ محسود کے قبضے میں ہیں۔ ان سپاہیوں میں دو محسود، دو خٹک جبکہ ایک بھٹنی قبیلوں سے تعلق رکھنے والے بتائے جاتے ہیں۔

شدت پسندوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ سپاہی زندہ ہیں اور ان کے پاس ہیں البتہ ان کی قسمت کا فیصلہ وہ شریعت کے مطابق کریں گے۔ ترجمان نے ان کی رہائی کے لئے کوئی مطالبہ بھی پیش نہیں کیا۔

دریں اثناء شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں فوجی قلعہ پر کل رات نامعلوم افراد نے تین راکٹ داغے جن میں سے دو قلعے کے اندر جبکہ ایک باہر گرا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جس کے بعد سیکورٹی فوررسز نے بھی جوابی کارروائی کی۔

اسی بارے میں
وزیرستان کا سچ معلوم نہیں
19 April, 2006 | پاکستان
وزیرستان جھڑپ: ایک ہلاک
15 April, 2006 | پاکستان
وزیرستان: ’ گیارہ ہلاک‘
13 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد