وزیرستان: ’ گیارہ ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پا کستانی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک کاروائی کے دوران گیارہ مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ مقامی لوگ مرنے والوں کی تعداد نو بتا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں چند غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ان انیس مبینہ شدت پسندوں کی نشاندہی پر ہوئی ہے جنہیں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ ہفتے شوال میں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔ شمالی وزیرستان کے ایک صحافی حاجی پذیر کے مطابق حملہ ایک مقامی شخص محمد اکبر کے گھر پر ہوا ہے جس میں ان کے دو کمسن بچوں سمیت نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرنے والے سارے مقامی ہیں اور علاقے میں مہمان تھے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ بدھ کی شب سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر میران شاہ سے چھ کلومیٹر جنوب میں واقع انغرگاؤں میں ایک مکان پر حملہ کیا جس میں چند غیر ملکی سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ’ یہ آپریشن رات گیارہ بجے کیا گیا اور اس میں کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔ حملے کے دوران نشانہ بننے والا کمپاؤنڈ اور وہاں کھڑی دوگاڑیاں بھی مکمل تباہ ہوگئیں‘۔ شوکت سلطان نے اس بات کا بھی دعوٰی کیا کہ مرنے والوں میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید اطلاعات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سوال پر کہ کیا اس حملے میں ایک بچہ اور مقامی خاتون بھی ہلاک ہوئے ہیں، شوکت سلطان نے کہا کہ’ ہمارے پاس کسی ایسے نقصان کی اطلاع نہیں ہے تاہم اگر کمپاؤنڈ میں موجود کوئی بچہ یا عورت ہلاک ہوا ہے تو ہمیں اس پر بہت افسوس ہے‘۔ | اسی بارے میں وزیرستان کارروائی، ’غیر ملکی‘ ہلاک13 April, 2006 | پاکستان وزیرستان جرگے کے مطالبات مسترد12 April, 2006 | پاکستان دتاخیل: فوجی ٹھکانے پر فائرنگ09 April, 2006 | پاکستان فوج قبائلی علاقے سے نکل جائے:جرگہ07 April, 2006 | پاکستان بیت اللہ کا فوجی انخلاء کا مطالبہ07 April, 2006 | پاکستان چالیس قبائلیوں کی ہلاکت کا دعویٰ06 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||