فوج پر حملے کے ذمہ دار ہیں: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی رات گئے ایک فوجی قافلے پر نامعلوم افراد کے حملے میں ایک فوجی ہلاک جب کہ ایک درجن زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ صدر مقام میران شاہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ دتہ خیل سے پچیس کلومیٹر مغرب میں سرحدی علاقے شوال جا نے والے ایک فوجی قافلے پر ہوا۔ اس قافلے میں شامل فوجی گاڑیوں پر نامعلوم افراد نے راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوئے ہیں۔ حکام تین حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعوی کر رہے ہیں تاہم طالبان نے اس کی تردید کی ہے۔ مقامی طالبان کے ایک ترجمان طارق جمیل نے نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے سرکاری دعووں کے برعکس فوج کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے چار فوجی گاڑیاں جلانے اور دو کو نقصان پہنچانے کا بھی دعوی کیا۔ ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی طالبان کے ترجمان نے حکومت سے قبائلی عمائدین کے رابطوں پر پابندی دوبارہ عائد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ طارق جمیل کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ بعض مشیران دوبارہ حکومت سے رابطوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے فی الحال حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کے امکان کو رد کیا۔ یہ پابندی ایک ایسے وقت لگائی گئی ہے جب صدر پرویز مشرف کی قبائلیوں سے ایک ملاقات بدھ کو پشاور میں متوقع ہے۔
ادھر شمالی وزیرستان میں ہی ٹل پکٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ جوابی کارروائی میں میران شاہ قلعہ سے رات بھر توپوں اور مارٹر سے گولہ باری کی گئی۔ اس فائرنگ سے ایک بیس سالہ قبائلی نیک ولی شاہ کی ہلاکت ہوئی ہے۔ میران شاہ میں اس قسم کے تصادم اور عام شہریوں کی ہلاکت سے فوج کے خلاف جذبات ابھر رہے ہیں۔ میران شاہ کے ایک دکاندار ولی اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسند حملے کہیں اور سے کرتے ہیں جبکہ فوجی تمام علاقوں پر جوابی فائرنگ کرتے ہیں جس سے عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بازار میں لوگوں کی آمد و رفت بھی کم ہوگئی ہے جس سے ان کے کاروبار پر پرا اثر پڑ رہا ہے۔ شمالی وزیرستان کے میر علی شہر میں پیر کو نقاب پوش افراد نے تقسیم کے لیے آئے اخبارات بطور احتجاج نذر آتش کر دیے تھے۔ مقامی طالبان کے ترجمان نے اس اقدام کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ طارق جمیل کا کہنا تھا کہ یہ اخبارات ان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات پر ان کی جانب سے کوئی پابندی نہیں لیکن انہیں بقول ان کے درست زبان استعمال کرنا ہوگی۔ شدت پسندوں کا کہنا تھا کہ یہ اخبارات ان کی بابت جانبداری دکھاتے ہیں اور ان کے خلاف ’شرپسند‘ اور ’دہشت گرد‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جوکہ ان کے لیے قابل قبول نہیں۔ پاکستان حکام وزیرستان میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لیے شرپسند اور دہشت گرد کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ میران شاہ کے مقامی صحافیوں کا اس بارے میں کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے سے ہی ان حالات کی وجہ سے ان واقعات کی رپورٹنگ بند کر رکھی ہے۔ اس کی وجہ ان کے مطابق ان کے اخبارات کی انتظامیہ کا ان کے ساتھ تعاون نہ کرنا ہے۔ ایک قبائلی صحافی نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ وہ خبر میں حملہ آور جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے لیکن دوسرے روز اخبار میں سرکاری موقف والا بیان شائع ہو جاتا تھا جس میں شرپسند اور دہشت گرد جیسے الفاظ لکھے ہوتے تھے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: فوجی چوکیوں پر حملے22 April, 2006 | پاکستان دتاخیل: فوجی ٹھکانے پر فائرنگ09 April, 2006 | پاکستان سات فوجی، چھ مزاحمت کار ہلاک20 April, 2006 | پاکستان میران شاہ: اہلکار سمیت چار ہلاک23 April, 2006 | پاکستان پانچ سپاہی ہمارے قبضے میں: قبائلی18 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||